حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 379 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 379

379 قرآن کریم کی وحی اولین اور آخرین کی وحیوں سے اقومی اور المل اور ارفع ہے وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(الشورى: 52) جس جگہ صفوت و عصمت و تبتل و محبت کامل و تام حزن و در دو شوق و خوف ہے اس جگہ انوار وحی کے کامل تجلیات بغیر آمیزش کسی نوع کی ظلمت کے وارد ہوتے رہتے ہیں اور آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے رہتے ہیں اور جس جگہ یہ مرتبہ کمال تام کا نہیں اس جگہ وحی بھی اس عالی مرتبہ سے متزلزل ہوتی ہے۔غرض وحی الہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات عالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق وصفا و توکل و وفا اور عشق الہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل وارفع و اعلی واصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھا وہ اس لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقومی و اکمل وارفع و تم ہو کر صفات الہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔سرمه چشم آریہ۔رخ۔جلد نمبر 2 صفحہ 71 حاشیہ) وَإِنَّهُ مَا تَجَلَّى مِنْ قَبْلُ وَ لَا يَتَجَلَّى مِنْ بَعْدُ كَمِثْلِ تَجَلَيْهِ لِخَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَ لَيْسَ شَانُ وَحْيِ الْأَوْلِيَاءِ كَمِثْلِ شَانٍ وَحْيِ الْفُرْقَانِ وَ إِنْ أَوْحِيَ إِلَيْهِمْ كَلِمَةٌ كَمِثْلِ كَلِمَاتِ الْقُرْآنِ۔فَإِنَّ دَائِرَة مَعَارِفَ الْقُرْآنِ أَكْبَرُ الدَّوَائِرِ وَإِنَّهَا أَحَاطَ الْعُلُوْمَ كُلَّهَا وَجَمَعَ فِي نَفْسِهَا أَنْوَاعَ السَّرَائِرِ وَ بَلَغَتْ دَقَائِقُهَا إِلَى الْمَقَامِ الْعَمِيْقِ الْغَائِرِ وَ سَبَقَ الْكُلَّ بَيَانًا وَبُرْهَانًا وَ زَادَ عِرْفَانًا وَإِنَّهُ كَلَامُ اللَّهِ الْمُعْجِزُ مَا قَرَعَ مِثْلُهُ اذَانًا وَلَا يَبْلُغُهُ قَوْلُ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ شَانًا۔اور یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالی کی تجلی جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی ایسی کسی پر نہ پہلے ہوئی اور نہ بھی پیچھے ہوگی اور جوشان قرآن کی وحی کی ہے وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں اگر چہ قرآن کے کلمات کی مانند کوئی کلمہ انہیں وحی کیا جائے اس لئے کہ قرآن کے معارف کا دائرہ سب دائروں سے بڑا ہے اور اس میں سارے علوم اور ہر طرح کی عجیب اور پوشیدہ باتیں جمع ہیں اور اس کی دقیق باتیں بڑے اعلیٰ درجہ کے گہرے مقام تک پہنچی ہوئی ہیں اور وہ بیان اور برہان میں سب سے بڑھ کر اور اس میں سب سے زیادہ عرفان ہے اور وہ خدا کا مجز کلام ہے جس کی مثل کانوں نے نہیں سنا اور اس کی شان کو جن وانس کا کلام نہیں پہنچ سکتا۔الهدای ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 276)