حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 369 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 369

369 چوتھا احکام جو ایک زبردست وجہ استواری اور استحکام کی ہے نبی کی قوت قدسیہ ہے جس سے فائدہ پہنچتا ہے۔جیسے طبیب خواہ کتنا ہی دعویٰ کرے کہ میں ایسا ہوں اور ویسا ہوں اور اس کو سدیدی خواہ نوک زبان ہی کیوں نہ ہو۔لیکن اگر لوگوں کو اس سے فائدہ نہ پہنچے تو یہی کہیں گے کہ اس کے ہاتھ میں شفا نہیں ہے۔اسی طرح پر نبی کی قوت قدسی جس قد ر ز بر دست ہو اسی قدر اس کی شان اعلیٰ اور بلند ہوتی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کے استحکام کے لئے یہ پشتیبان بھی سب سے پڑا پشتیبان ہے۔ان وجوہات احکام آیات کے علاوہ میرے نزدیک اور بھی بہت سے وجوہات ہیں منجملہ ان کے ایک السر کے لفظ سے پتہ لگتا ہے یہ لفظ مجددوں اور مرسلوں کے سلسلہ جاریہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قیامت تک جاری ہے۔اب اس سلسلہ میں آنے والے مجددوں کے خوارق ان کی کامیابیوں ان کی پاک تا شیروں وغیرہ وجوہات احکام آیات کو گن بھی نہیں سکتے۔اور یہ سب خوارق اور کامیابیاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے متبعین مجددوں کے ذریعہ سے ہوئیں اور قیامت تک ہوں گی۔درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی کامیابیاں ہیں۔غرض ہر صدی کے سر پر مسجد کا آنا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ مردوں سے استمداد خدا تعالیٰ کی منشاء کے موافق نہیں۔اگر مردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہزاروں ہزار جواولیاء اللہ پیدا ہوتے ہیں اس کا کیا مطلب تھا۔مجد دین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جا تا؟ اگر اسلام مردوں کے حوالے کیا جاتا تو یقیناً سمجھو کہ اس کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا۔یہودیوں کا مذہب مردوں کے حوالے کیا گیا۔نتیجہ کیا ہوا؟ عیسائیوں نے مردہ پرستی سے بتلاؤ کیا پایا؟ مردوں کو پوجتے پوجتے خود مردہ ہو گئے۔نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔اول سے لے کر آخر تک مردوں ہی کا مجمع ہو گیا۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام کا خدا حتی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔وه حتی و قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید: 18) تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے۔نہیں۔ہر گز نہیں۔اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ۔(الحجر: (10) کہ کر اٹھایا ہوا ہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔یادرکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔پھر فرمایا: ثُمَّ فُصِّلَتْ۔ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے۔دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ہر زمانے میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔فلسفی اپنے رنگ میں طبیب اپنے مذاق پر ا صوفی اپنے طرز پر بیان کرتے ہیں۔اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم و خبیر خدا نے رکھی ہے۔حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہو اور پھر عمل بھی کامل ہوا ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل و موقع پر رکھ سکے۔حکمت کے معنے وَضْعُ الشَّيْءٍ فِي مَحَلَّه اور خبیر مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا۔وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر یہ علیمیں ذہن نشین کرنی چاہئیں۔چنانچہ اسی کے مطابق تفاصیل کی پہ ہیں۔پھر اس کا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجد دو مصلح احیاء دین کے لئے آتے ہیں وہ خود مفصل آتے ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 346-342)