حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 365
365 پس یہ آیت در حقیقت اس دوسری آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَوَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ۔(الحجر: 10) کے لئے بطور تفسیر کے واقعہ ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیونکر اور کس طور سے ہوگی۔سوخدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہونگا اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کیلئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہونگے اور اسکی برکتوں میں سے حصہ پائینگے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتارہا۔اور انکے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہو گا یعنے ایسے وقتوں میں آئینگے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہوگا۔پھر انکے آئیکے بعد جوان سے سرکش رہیگا وہی لوگ بدر کا راور فاسق ہیں۔یہ اس بات کا جواب ہے کہ بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے۔سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک فرض ہے اور ان سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں اگر مخالفت پر ہی مریں۔شہادت القرآن - ر-خ- جلد 6 صفحہ 339) وَكَذَالِكَ قَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى لِقَوْمٍ يَسْتَرْشِدُوْنَ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّالَهُ لَحَافِظُوْنَ فَامْعَنُوْا فِيْهِ إِنْ كُنْتُمْ تَفَكَّرُوْنَ فَهَذِهِ إِشَارَةٌ إِلَى بَعْثِ مُجَدِدٍ فِي زَمَانٍ مُّفْسَدٍ كَمَا يَعْلَمُهُ الْعَاقِلُوْنَ وَلَا مَعْنَى لِحِفَاظَةِ الْقُرْآنِ مِنْ غَيْرِ حِفَاظَةِ عِطْرِهِ عِنْدَ شُيُوعِ فِتَنِ الطُّغْيَانِ وَإِثْبَاتِهِ فِي الْقُلُوْبِ عِنْدَ هَةٍ صَرَاصِرِ الطُّغْيَانِ كَمَالَا يَخْفَى عَلَى ذَوِى الْعِرْفَانِ وَالْمُتَدَبِّرِيْن سر الخلافة -ر-خ- جلد 8 صفحہ 362-361) (ترجمہ از مرتب) اور اسی طرح طالبان ہدایت کے لئے دوسری آیت میں فرمایا: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَوَ إِنَّا لَهُ لحفِظُونَ۔پس اس میں غور کرو اگر تم صاحب فکر ہو۔اس آیت میں ایسے زمانہ میں جو فساد سے پُر ہوا ایک مجدد کی بعثت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ہر عقل مند جانتا ہے۔کیونکہ حفاظت قرآن کے اور کوئی معنے ہی نہیں سوائے اس کے کہ اس کی روح اور اس کے خلاصہ کو محفوظ رکھا جائے بالخصوص اس وقت جبکہ سرکشی کے فتنے بکثرت موجود ہوں اور قرآن مجید کو دلوں میں قائم رکھا جائے جب کہ سرکشی کی تند ہوائیں چل رہی ہوں جیسا کہ صاحب علم و عرفان اور غور کرنے والے لوگوں پر مخفی نہیں۔قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ دائمی ہے یہ آیت کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُوْن - بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ توریت اور انجیل یہود اور نصاریٰ کے سینوں سے محو کی گئی اور گوتوریت اور انجیل ان کے ہاتھوں اور ان کے صندوقوں میں تھی لیکن ان کے دلوں سے محو ہوگئی یعنی ان کے دل اس پر قائم نہ رہے اور انہوں نے توریت اور انجیل کو اپنے دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ تعلیم قرآن کا بر باد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اول سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا۔یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے۔اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اوراس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔شہادت القرآن۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 338) ( شہادت القرآن۔۔۔خ۔جلد 6 صفحہ 351)