حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 353
353 بهشت و دوزخ کی حقیقت پہلے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بالکل خیالی اور سادہ طور پر بہشت و دوزخ کو رکھا گیا تھا حضرت مسیح نے پھانسی پانے والے چور کو یہ تو کہہ دیا کہ آج ہم بہشت میں جائیں گے مگر بہشت کی حقیقت پر کوئی نکتہ بیان نہ فرمایا۔ہم اس وقت اس سوال کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ عیسائیوں کے انجیلی عقیدے اور بیان کے موافق وہ بہشت میں گئے یا ہادیہ میں۔بلکہ صرف یہ دکھانا ہے کہ بہشت کی حقیقت انہوں نے کچھ بیان نہیں کی۔ہاں یوں تو عیسائیوں نے اپنے بہشت کی مساحت بھی کی ہوئی ہے۔برخلاف اس کے قرآن شریف کسی تعلیم کو قصے کے رنگ میں پیش نہیں کرتا۔بلکہ وہ ہمیشہ ایک علمی صورت میں اسے پیش کرتا ہے۔مثلاً اسی بہشت و دوزخ کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَغمی۔(بنی اسرائیل: 73) یعنی جواس دینا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔کیا مطلب کہ خدا تعالیٰ اور دوسرے عالم کے لذات کے دیکھنے کے لئے اسی جہان میں حواس اور آنکھیں ملتی ہیں۔جس کو اس جہان میں نہیں ملیں اس کو وہاں بھی نہیں ملیں گے۔اب یہ امرانسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ ان حواس اور آنکھوں کے حاصل کرنے کے واسطے اسی عالم میں کوشش اور سعی کرے تاکہ دوسرے عالم میں بینا اٹھے۔ایسا ہی عذاب کی حقیقت اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے۔نار الله الـمـوقـدة التي تطلع على الافئدة۔(الهمزة : 8-7 ) یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب ایک آگ ہے۔جس کو وہ بھڑکاتا ہے اور انسان کے دل ہی پر اس کا شعلہ بھڑکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب الہی اور جہنم کی اصل جڑ انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اور گندے ارادے اور عزم اس جہنم کا ایندھن ہیں۔اور پھر بہشت کے انعامات کے متعلق نیک لوگوں کی تعریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يفجرونها تفجيرا۔(الدھر: 7) یعنی اسی جگہ نہریں نکال رہے ہیں اور پھر دوسری جگہ مومنوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کی جزاء کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے جنت تجرى من تحتها الانهار۔اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی ان باتوں کو قصہ قرار دے سکتا ہے۔یہ کیسی کچی بات ہے جو یہاں آبپاشی کرتے ہیں وہی پھل کھائیں گے۔غرض قرآن شریف اپنی ساری تعلیموں کو علوم کی صورت اور فلسفہ کے رنگ میں پیش کرتا ہے اور یہ زمانہ جس میں خدا تعالیٰ نے ان علوم حقہ کی تبلیغ کے لئے اس سلسلہ کو خود قائم کیا ہے۔کشف حقائق کا زمانہ ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد 1 نمبر 5 صفحہ 177) ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 113-112)