حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 342
342 عالم صغیر اور عالم کبیر کا نظام مشابہ ہے قیوم العالم جو تمام عالم کے بقا اور قیام کے لئے نفس مدبرہ کی طرح اور حکم آیت اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَ الأرْضِ ( النور : 36) ان کی حیات کا نور ہے تدبیر عالم کبیر کی بواسطہ ملا یک کے فرماتا ہے اور ہمیں اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں کہ جو کچھ عالم صغیر میں ذات واحد لاشریک کا نظام ثابت ہوا ہے اسی کے مشابہ عالم کبیر کا بھی نظام ہے۔کیونکہ یہ دونوں عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہیئے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا دونوں مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں کیونکہ تو حید فی النظام توحید باری عزاسمہ کے مسئلہ کو موید ہے۔وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف کثیر پایا جاتا۔غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ملا یک اللہ عالم کبیر کے لئے ایسے ہی ضروری ہیں جیسے قومی روحانیہ وحسیہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے۔(آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 176 حاشیہ) خدا کا قول اور فعل یا ہم مطابق ہیں پس در حقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اور قول سے کچھ اور ظاہر ہو۔خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگذر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزایاب بھی کرتا ہے ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔ہمارا خدا صرف علیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کا قہر بھی عظیم ہے۔سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور سچا قول الہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں۔(چشمہ مسیحی۔رخ۔جلد 5 صفحہ 176)