حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 337 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 337

337 إِنَّا أَنْزَلْنَه۔۔۔۔مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔( القدر 2 تا 6 ) قرآن شریف میں جولیلۃ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے یہاں لیلۃ القدر کے تین معنی ہیں اول تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلتہ القدر کی ہوتی ہے دوم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلۃ القدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے زمانہ میں وہ آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں۔سوم لیلتہ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفی ہے۔تمام وقت یکساں نہیں ہوتے۔بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کو کہتے کہ أَرِحْنَا يَا عَائِشَةُ یعنی اے عائشہ مجھے کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے۔وقتے چنیں بودے کہ بجبرائیل و میکائیل پر داخته و دیگر وقت باحفصه و زینب در ساختے ترجمہ کسی وقت جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ ہوتے اور کسی وقت ( اپنی ازواج ) حفصہ اور زینب کے ساتھ ہوتے جتنا جتنا انسان خدا کے قریب آتا ہے۔یہ وقت اسے زیادہ میسر آتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 537-536) اسی طرف اللہ جلشانہ اشارہ فرماتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔یعنی اس لیلۃ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسی برس کے بڈھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پالیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اس لیلۃ القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک که ظلمت غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔فتح اسلام - رخ جلد 3 صفحہ 33-32)