حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 7
7 پہلی فصل حضرت اقدس کے الہامات و رویاء الہیہ کے اعتبار سے الہامات حضرت اقدس حضرت اقدس نے اپنا ایک پرانا الہام سنایا۔يَا يَحْی خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِى الْقُرْا اور فرمایا کہ : اس میں ہم کو حضرت یحیی کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت یحیی کو یہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہو رہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہل حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش ( ملفوظات جلد دوم صفحه 203) کرتے ہیں۔إِنِّي مَعَكَ حَيْثُ مَا كُنْتَ وَ إِنِّي نَاصِرُكَ وَ إِنِّي يَدُّكَ إِلَّا زِمُ وَ عَضُدُكَ الْأَقْوَى وَأَمَرَنِيْ اَنْ اَدْعُوَ الْخَلْقَ إِلَى الْفُرْقَانِ وَ دِيْنِ خَيْرِ الْوَرى - ترجمہ۔تو جہاں بھی ہو میں تیرے ساتھ ہوں میں تیری مدد کروں گا اور میں ہمیشہ کے لئے تیرا چارہ اور سہارا اور تیرا نہایت قوی بازو ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں کو قرآن اور آنحضرت ﷺ کے تذکرہ ایڈیشن چہارم 1977 صفحہ 218۔219) دین کی دعوت دوں۔قُلْ إِنَّمَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحَى إِلَيَّ أَنَّمَا الهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ۔لَا يَمَسُّة إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۔وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ۔کہہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں۔مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے۔کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔وہی اکیلا معبود ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہیئے۔اور تمام خیر اور بھلائی قرآن میں ہے۔بجز اس کے اور کسی جگہ سے بھلائی نہیں مل سکتی۔اور قرآنی حقائق صرف ان لوگوں پر کھلتے ہیں۔جن کو خدا تعالی اپنے ہاتھ سے پاک اور صاف کرتا ہے۔اور میں ایک عمر تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں۔کیا تم کو عقل نہیں۔۔۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 89-90)