حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 309
309 پہلی فصل (1) اسماء قرآن کریم میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہوگی جبکہ اور کتا نہیں بھی پڑھنے میں اسکے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی اور فرمایا فرقان کے بھی یہی معنے ہیں یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہوگی۔اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔J۔۔۔۔۔۔L ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 386) (۳۲) برہان اور نور مبین يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِينًا۔( النساء 175 ) لوگو تمہارے پاس یہ یقینی بر ہان پہنچی ہے اور ایک کھلانور تمہاری طرف ہم نے اتارا ہے۔( نور القرآن۔۔جلد 9 صفحہ 334 ) (۴) فرقان وَ إِذَا تَيْنَا مُوْسَى الْكِتَبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔(البقرة : 54 فرقان حق و باطل میں فرق کرنے والی۔(۵) کتاب قرآن شریف کا نام کتاب بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الم ذلك الكتاب لا ريب فيه (البقرة: ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 386) 3-2) لا رطب و لا يا بس الا في كتاب مبين۔(الانعام : (60) (اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ جلد 10 صفحہ 177 حاشیہ) (1) الحق وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔( بنی اسرائیل : 82 ) کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ ) مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھا گنا ہی تھا۔حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت (ع) ہیں اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں۔سرمہ چشم آریہ -رخ- جلد 2 صفحہ 277 حاشیہ) (۷) بصائر وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوْحَى إِلَيَّ مِنْ رَّبِّي هَذَا بَصَائِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ (الاعراف : 204) اور جس دن تو ان کو کوئی آیت نہیں سناتا۔اس دن کہتے ہیں کہ آج تو نے کوئی آیت کیوں نہ گھڑی ان کو کہہ کہ میں تو اسی کلام کی پیروی کرتا ہوں کہ جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر نازل ہو رہا ہے اپنے دل سے گھڑ لینا