حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 310 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 310

(۸) الخير 310 قرآن شریف کو خدا تعالیٰ نے خیر کہا ہے چنانچہ فرمایا وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا پس قرآن شریف معارف اور علوم کے مال کا خزانہ ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآنی معارف اور علوم کا نام بھی مال رکھا ہے۔دنیا کی برکتیں بھی اسی کے ساتھ آتی ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 530) (۹) شفاء شِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ۔(يونس: 58 ) یعنی قرآن اپنی خاصیت سے تمام بیماریوں کو دور کرتا ہے۔اس لئے اس کو منقولی کتاب نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے معقول دلائل اپنے ساتھ رکھتا اور ایک چمکتا ہوا نور اس میں پایا جاتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی - رخ جلد 10 صفحہ 433) (۱۰) ذکر اب دیکھو۔قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یاد دلاتا ہے۔جب اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لاتے ہیں، تو وہ مبالغہ کا کام دیتا ہے۔جیسازیـد عدل۔کیا معنے ؟ زید بہت عادل ہے۔قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا، بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے، جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں رکھی ہے۔حکم ہے ایثار ہے، شجاعت ہے، جبر ہے غضب ہے قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی، قرآن نے اسے یاد دلایا۔جیسے فنی کتب مكنون ( الواقعہ: 79) یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا۔تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلا دے۔(ملفوظات۔جلد اول صفحہ 60) (11) (۱۴) (۱۳) (۱۲) قول فصل۔میزان۔امام نور۔جو صفات اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کیلئے آپ بیان فرمائی ہیں۔کیا ان پر ایمان لانا فرض ہے یا نہیں؟ اور اگر فرض ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس سبحانہ نے قرآن کریم کا نام عام طور پر قول فصل اور فرقان اور میزان اور امام اور نور نہیں رکھا ؟ اور کیا اس کو جمیع اختلافات کے دور کرنے کا آلہ نہیں ٹھہرایا ؟ اور کیا یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل ہے؟ اور ہر ایک امر کا بیان ہے اور کیا یہ نہیں لکھا کہ اس کے فیصلہ کے مخالف کوئی حدیث ماننے کے لائق نہیں؟ اور اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو کیا مومن کیلئے ضروری نہیں جو ان پر ایمان لاوے اور زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے؟ اور واقعی طور پر اپنا یہ اعتقاد رکھے کہ حقیقت میں قرآن کریم معیار اور حکم اور امام ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔رخ جلد 4 صفحہ 92)