حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 298
298 سورة الناس قُلْ اَعُوذُ بِرَبِ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ 0 لفظ ناس سے مرادر جال ہے اس کے شر کو مسیح موعود دور کرے گا دجال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ ناس کا نام اس پر اطلاق نہ پاتا اور اس میں کیا شک ہے کہ ناس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے۔سو جو گر وہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجال کے نام سے موسوم ہوتا ہے اسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ سے شروع کیا گیا اور اس آیت پر ختم کیا گیا الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ - مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔پس لفظ الناس سے مراد اس جگہ بھی دجال ہے۔ماحصل اس سورت کا یہ ہے کہ تم دجال کے فتنہ سے خدا تعالی کی پناہ پکڑو اس سورہ سے پہلے سورہ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے رد میں ہے بعد اس کے سورۃ فلق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخر ایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سایہ چلتا ہے۔اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہوگا جن کے ساتھ نفثت فی العقد ہوں گی یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقد نکاح کو توڑیں۔خوب یا درکھنا چاہیے کہ یہ تینوں سورتیں قرآن شریف کی دجالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔(ایام الصلح۔۔۔خ جلد 14 صفحہ 296تا297)