حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 297 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 297

297 ہیں۔آخر سورۃ میں شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم فرمائی ہے جیسے سورہ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا تھا ویسے ہی آخری سورۃ میں خناس کے ذکر پر ختم کیا تا کہ خناس اور الضالین کا تعلق معلوم ہو۔۔۔کس طرح پر ایک دائرہ کی طرح خدا نے اس سلسلہ کو جاری رکھا ہوا ہے وَلَا الضَّالِینَ پر سورۃ فاتحہ کو جو قرآن کا آغاز ہے ختم کیا اور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سورتیں رکھیں جن کا تعلق سورۃ فاتحہ کے انجام سے ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 168 تا 170 ) سورة الفلق قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَه وَمِنْ شَرِّ النَّفْتَتِ فِي الْعُقَدِهِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَه حضرت اقدس کو دکھ دینے سے پناہ مانگی گئی ہے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورہ تبت اور سورہ اخلاص کیلئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے۔جب کہ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جبکہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔صبح صادق میں حضرت اقدس کی آمد کی بشارت ہے (تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 218) اور لفظرب الفلق اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس تاریکی کے بعد پھر صبح کا زمانہ بھی آئیگا جو سیح موعود کا زمانہ ہے۔ان دونوں سورتوں (اخلاص اور فلق) میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے صرف فرق یہ ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت بیان ہے اور سورۃ فلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے اور اس فرقہ کا نام سورۃ الفلق میں شَرِّ مَا خَلَق رکھا گیا ہے یعنی شَرُّ الْبَرِيَّه - اوراحادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال معہود کا نام بھی شر البر یہ ہے کیونکہ آدم کے وقت سے اخیر تک شر میں اس کے برابر کوئی نہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 272 حاشیہ) سورہ فلق میں یعنی آیت وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَب میں آنے والی ایک سخت تاریکی سے ڈرایا گیا اور فقره قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں آنیوالی ایک صبح صادق کی بشارت دی گئی اور اس مطلب کے حصول کے لئے سورۃ الناس میں صبر اور ثبات کیساتھ وساوس سے بچنے کیلئے تاکید کی گئی۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 285 حاشیہ)