حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 296 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 296

296 سواب یہ وہی فتنہ کا زمانہ ہے جس میں تم آج ہو۔تیرہ سو برس کی پیشگوئی جو سورہ فاتحہ میں تھی آج تم میں اور تمہارے ملک میں پوری ہوئی اور اس فتنہ کی جڑ مشرق ہی نکلا اور جیسا کہ اس فتنہ کا ذکر قرآن کے ابتدا میں فرمایا گیا اور ایسا ہی قرآن شریف کے انتہا میں بھی ذکر فرمایا تا یہ امر موکد ہو کر دلوں میں بیٹھ جائے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 217 تا220) قرآن شریف کو سورہ فاتحہ سے شروع کر کے غَيْر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ پر ختم کیا ہے۔لیکن جب ہم مسلمانوں کے معتقدات پر نظر کرتے ہیں تو دجال کا فتنہ ان کے ہاں عظیم الشان فتنہ ہے اور یہ ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے ہیں کہ خدا تعالی دجال کا ذکر ہی بھول گیا ہو۔نہیں بات اصل یہ ہے کہ دجال کا مفہوم سمجھنے میں لو گوں نے دھو کہ کھایا ہے۔سورہ فاتحہ میں جود و فتنوں سے بچنے کی دعا سکھائی ہے۔اول غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عليهم - غیر المغضوب سے مراد باتفاق جمیع اہل اسلام یہود ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت امت پر آنے والا ہے جب کہ وہ یہود سے تشابہ پیدا کرے گی اور وہ زمانہ مسیح موعود ہی کا ہے جب کہ اس انکا ر اور کفر پر اسی طرح زور دیا جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم کے کفر پر یہودیوں نے دیا تھا۔غرض اس دعا میں یہ سکھایا گیا کہ یہود کی طرح مسیح موعود کی تو ہین اور تکفیر سے ہم کو بچا اور دوسرا عظیم الشان فتنہ جس کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کیا ہے اور جس پر سورۃ فاتحہ کو ختم کر دیا ہے وہ نصاریٰ کا فتنہ ہے۔جو وَلَا الضَّالِينَ میں بیان فرمایا ہے۔اب جب قرآن شریف کے انجام پر نظر کی جاتی ہے تو وہ بھی ان دونوں فتنوں کے متعلق کھلی کھلی شہادت دیتا ہے مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کے مقابل میں سورہ تبت یدا ہے مجھے بھی فتویٰ کفر سے پہلے یہ الہام ہوا تھا۔وَإِذَ يَمْكُرُبِكَ الَّذِي كَفَرَ أَوْقِدْ لِي يَا هَا مَانُ لَعَلَّى اَطَّلِعُ عَلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَا ظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ - تَبَّتَ يَدَا أَبِي لَهَب وَتَبْ - مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَّدْ خُلَ فِيْهَا إِلَّا خَائِفًا ۖ وَمَا أَصَابَكَ فَمِنَ اللهِ۔یعنی وہ زمانہ یاد کر جب کہ مکفر تجھ پر تکفیر کا فتوی لگائے گا۔اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکتا ہو کہے گا کہ میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑکا تا میں دیکھ لوں کہ یہ شخص جو موسیٰ کی طرح کلیم اللہ ہونے کا مدعی ہے خدا اس کا معاون ہے یا نہیں اور میں تو اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور آپ بھی ہلاک ہو گیا اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس میں دخل دیتا مگر ڈر ڈر کر اور جو رنج تجھے پہنچے گا۔وہ خدا کی طرف سے ہے۔غرض سورۃ تبت میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور وَلَا الضَّالِينَ ہے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورہ اخلاص ہے اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورہ الفلق اور سورہ الناس ان دونوں کی تغییر ہیں۔ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جب کہ مسیح موعود پر کفر کا فتو ی لگا کر مغضوب علیھم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ظلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔پس جیسے سورہ فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے ان دونو بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی تاکہ یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اول با خر نسبتی دارد۔ولا الضالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قل ھو اللہ ہے اور باقی دونوں سورتیں اس کی شرح