حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 286
286 سورة العصر وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَرُ ابالْحَقِّ، وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ O (العصر : 2 تا 4) حضرت اقدس مثیل آدم ہیں إِنَّ الْقُرْآنَ أَشَارَا فِي أَعْدَادِ سُورَةِ الْعَصْرِ إِلى وَقْتٍ مَّضَى مِنْ آدَمَ إِلَى نَبِيَّنَا بِحَسَابِ الْقَمَرِ فَعُدُّوا اِنْ كُنتُمْ تَشُكُونَ۔وَإِذَا تَقَرَّرَ هَذَا فَا عُلَمُوا أَنَّى خُلِقْتُ فِي الَا لُفِ السَّادِسِ فِي آخِرِ اَوْقَاتِه كَمَا خُلِقَ ادَمُ فِي الْيُوْمِ السَّادِسِ فِي آخِرِ سَاعَاتِهِ فَلَيْسَ لِمَسِيحٍ مِّنْ دُوْ نِي مَوْضِعُ قَدَمٍ بَعْدَ زَمَانِي إِنْ كُنْتُمْ تُفَكِّرُونَ۔( ترجمه از اصل ) قرآن سورہ عصر کے اعداد میں قمری حساب سے اس وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو آدم سے ہمارے نبی تک گزرا ہے۔پس اگر شک ہے تو گن لو۔اور جب یہ تحقیق ہو گیا تو جان لو کہ میں چھٹے ہزار کے آخر اوقات میں پیدا کیا گیا ہوں جیسا کہ آدم چھٹے دن میں اس کی آخری ساعت میں پیدا کیا گیا۔پس میرے سوا دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں اگر فکر کرو۔(خطبہ الہامیہ رخ جلد 16 صفحه 242 تا 243 میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھے ہزار برس میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔سوجیسا کہ آدم علیہ السلام اخیر حصہ میں پیدا ہوا ایسا ہی میری پیدائش ہوئی۔خدا نے منکروں کے عذروں کو توڑنے کے لئے یہ خوب بندوبست کیا ہے کہ مسیح موعود کے لئے چار ضروری علامتیں رکھ دی ہیں۔(۱) ایک یہ کہ اس کی پیدائش حضرت آدم کی پیدائش کے رنگ میں آخر ہزار ششم میں ہو۔(۲) دوسری یہ کہ اس کا ظہور بروز صدی کے سر پر ہو (۳) تیسری یہ کہ اس کے دعوئی کے وقت آسمان پر رمضان کے مہینہ میں خسوف و کسوف ہو (۴) چوتھی یہ کہ اس کے دعوی کے وقت میں بجائے اونٹوں کے ایک اور سواری دنیا میں پیدا ہو جائے۔اب ظاہر چاروں علامتیں ظہور میں آچکی ہیں چنانچہ مدت ہوئی کہ ہزار ششم گذر گیا اور اب قریبا پچاسواں سال اس پر زیادہ جا رہا ہے اور اب دنیا ہزار ہفتم کو بسر کر رہی ہے اور صدی کے سر پر سے بھی سترہ برس گزر گئے اور خسوف و کسوف پر بھی کئی سال گذر چکے اور اونٹوں کی جگہ ریل کی سواری