حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 285
285 لوگ مر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شناخت کرنے کی روح ان میں باقی نہیں رہی سوائے بہت کم لوگوں کے جو شاذ و نادر ہونے کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہیں پس ان صفات کے ظہور سے جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں اور ربوبیت رحمانیت اور رحیمیت کی روشن نشانوں کی طرح تجلی سے اور پھر کثرت اموات اور گمراہیوں کے زہر سے لوگوں کے مرنے سے ہم نے جان لیا ہے کہ حشر و نشر کا دن قریب ہے بلکہ دروازے پر ہے جیسا کہ ان علامات اور اسباب کے ظہور سے واضح ہو گیا ہے کیونکہ ربوبیت رحمانیت اور رحیمیت سمندروں کے جوش مارنے کی طرح موجزن ہیں اور ظاہر ہو چکی ہیں اور پے در پے نازل ہورہی ہیں اور دریاؤں کی طرح جاری ہیں۔لہذا بلا شبہ اب حشر و نشر کا وقت آ گیا ہے۔یہ سنت اللہ رسول اللہ اللہ کے صحابہ کے وقت) میں بھی ہو گزری ہے۔پس بلاشبہ یہ زمانہ یوم الدین ہے یوم حشر ہے آسمانوں کے رب کی مالکیت اور اس ( مالکیت ) کے آثار اہل زمین کے دلوں پر ظاہر ہونے کا دن ہے اور (اس امر میں بھی کوئی شک نہیں یہ زمانہ اس مسیح کا زمانہ ہے جو خدائے احکم الحاکمین کی طرف سے حکم ہے اور لوگوں کی ہلاکت (روحانی) کے بعد ایک حشر کا وقت ہے۔اور اس کا نمونہ حضرت عیسی کے زمانہ میں بھی اور حضرت خاتم النبین ﷺ کے زمانہ میں بھی گزر چکا ہے۔پس تم بھی غور کرو اور غافلوں ( کی صف ) میں شامل نہ ہو۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 162 تا164) احمدیت میں داخل ہونا ایک شہادت ہے یہ سچ ہے کہ جب ایک شخص محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی قسم کی نفسانی اغراض کے بغیر ایک قوم سے قطع تعلق کرتا ہے اور خدا ہی کو راضی کرنے کے لئے دوسری قوم میں داخل ہوتا ہے تو ان تعلقات قومی کے تو ڑنے میں سخت تکلیف اور دکھ ہوتا ہے مگر یہ بات خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی قابل قدر ہے اور یہ ایک شہادت ہے جس کا بڑا اجر اللہ تعالیٰ کے حضور ملتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے وَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًائرَة ( الزلزال : 8) یعنی جو شخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرتا ہے اسے بھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اج دیتا ہے تو پھر جو شخص اتنی بڑی نیکی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ایک موت اپنے لئے روا رکھتا ہے اسے اجر کیوں نہ ملے؟ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 327)