حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 284
284 ہے تو کوئی مومن نہیں بنتا جب تک اس کے دل میں غیرت نہ ہو۔بے غیرت آدمی دیوث ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 477) فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَہ کے مطابق حضرت اقدس کو قبول کرنا ایک بشارت ہے اس وقت ثواب کے لئے مستعد ہو جاؤ اور یہ بھی مت سمجھو کہ اگر اس راہ میں خرچ کریں گے تو کچھ کم ہو جاوے گا خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح سب کمیاں پر ہو جائیں گی۔مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرَايَّرَهُ - ( ملفوظات جلد اول صفحہ 478) وان الارض زلزلت لنا زلزالا۔فاخرجت اثقالا و فجرت الانهار۔وسجرت البحار۔وجددت المراكب و عطلت العشار۔و ان السابقين مارؤاكمثل ما رئينا من النعماء و في كل قدم نعمة وقد خرجت من الاحصاء۔ومع ذالك كثرت موت القلوب و قساوة الافئدة۔كان الناس كلهم ماتوا ولم يبق فيهم روح المعرفة۔الا قليل الذى هو كالمعدوم من الندرة و انا فهمنا مما ذكرنا من ظهور الصفات وتجلى الربوبية و الرحمانية و الرحيمية كمثل الايات۔ثم من كثرة الاموات و موت الناس من سم الضلالات ان يوم الحشر و النشر قريب بل على الباب۔كـمـا هـو ظاهر من ظهور العلامات و الاسباب۔فان الربوبية و الرحمانية والرحيمية تموجت كتموج البحار و ظهرت و تواترت و جرت کالانهار فلاشک آن وقت الحشر و النشور قد اتى۔وقد مضت هذه السنة في صحابة خير الورى۔ولاشك ان هذا اليوم الدين و يوم الحشر و يوم مالكية رب السماء و ظهور اثارها على قلوب اهل الارضین۔و لاشک ان اليوم يوم المسيح الحكم من الله احكم الحاكمين و انه حشر بعد هلاك الناس۔و قد مضى نموذجه في زمن عیسی و زمن خاتم النبین فتدبر و لاتكن من الغافلين۔ترجمه از مرتب۔پس زمین ہماری خاطر خوب جھنجھوڑی گئی ہے اور اس نے اپنے بوجھ (یعنی خزانے ) باہر نکال پھینکے ہیں نہریں جاری کی گئی ہیں۔دریا خشک کر دیئے گئے ہیں۔نئی نئی سواریاں نکل آئی ہیں اور اونٹنیاں بریکار ہو گئی ہیں۔ہمارے پہلوں نے ایسی نعمتیں نہیں دیکھی تھیں جو ہم نے دیکھی ہیں۔ہر قدم پر ایک (نئی ) نعمت ( موجود ) ہے اور یہ ( نعمتیں ) حد شمار سے باہر ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دلوں کی موت اور ان کی تختی بہت بڑھ گئی گویا کہ تمام