حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 282
282 ملیں؟ تب اس روز ہر یک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلی درجہ کی طاقتیں میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک وحی ہے جو ہر یک استعداد پر بحسب اس کی حالت کے اتر رہی ہے یعنی صاف نظر آئے گا کہ جو کچھ انسانوں کے دل و دماغ کام کر رہے ہیں یہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ غیبی تحریک ہے کہ ان سے یہ کام کر رہی ہے سو اس دن ہر ایک قسم کی قوتیں جوش میں دکھائی دیں گی۔دنیا پرستوں کی قو تیں فرشتوں کی تحریک سے جوش میں آکر اگر چہ باعث نقصان استعداد کے سچائی کی طرف رخ نہیں کریں گی لیکن ایک قسم کا ابال اُن میں پیدا ہو کر اور انجماد اور افسردگی دور ہو کر اپنی معاشرت کے طریقوں میں عجیب قسم کی تدبیریں اور صنعتیں اور کیس ایجاد کر لیں گے اور نیکوں کی قوتوں میں خارق عادت طور پر الہامات اور مکاشفات کا چشمہ صاف صاف طور پر بہت نظر آئے گا اور یہ بات شاذ و نادر ہوگی کہ مومن کی خواب جھوٹی نکلے تب انسانی قومی کے ظہور و بروز کا دائرہ پورا ہو جائے گا اور جو کچھ انسان کے نوع میں پوشیدہ طور پر ودیعت رکھا گیا تھا وہ سب خارج میں جلوہ گر ہو جائیگا تب خدائے تعالیٰ کے فرشتے ان تمام راستبازوں کو جو زمین کی چاروں طرفوں میں پوشیدہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے ایک گروہ کی طرح اکٹھا کر دیں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئیگا تا ہر ایک گروہ اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لیوے تب آخر ہو جائے گی یہ آخری لیلتہ القدر کا نشان ہے جس کی بناء ابھی سے ڈالی گئی ہے جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ انتَ أَشُدُّ مُنَاسَبَةٌ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمُ وَاشْبَهَ النَّاسِ بِهِ خُلْقًا وَّ خَلْقاً وزَمَانًا مگر یہ تاثیرات اس لیلتہ القدر کی اب بعد اس کے کم نہیں ہوں گی۔بلکہ بالاتصال کام کرتی رہیں گی جب تک وہ سب کچھ پورا نہ ہولے جو خدائے تعالیٰ آسمان پر مقرر کر چکا ہے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے اترنے کے لئے جو زمانہ انجیل میں بیان فرمایا ہے یعنی یہ کہ حضرت نوح کے زمانے کی طرح امن اور آرام کا زمانہ ہو گا در حقیقت اسی مضمون پر سورہ الزلزال جس کی تفسیر ابھی کی گئی ہے دلالت التزامی کے طور پر شہادت دے رہی ہے۔کیونکہ علوم وفنون کے پھیلنے اور انسانی عقول کی ترقیات کا زمانہ در حقیقت ایسا ہی چاہیے جس میں غایت درجہ کا امن و آرام ہو کیونکہ لڑائیوں اور فسادوں اور خوف جان اور خلاف امن زمانہ میں ہر گز ممکن نہیں کہ لوگ عقلی و عملی امور میں ترقیات کرسکیں۔یہ باتیں تو کامل طور پر تبھی سوجھتی ہیں کہ جب کامل طور پر امن حاصل ہو۔ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سورۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ در حقیقت زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا اور وہ ایسا زمانہ ہو گا کہ تمام زمین اس سے زیروز بر ہو جائیگی اور جو زمین کے اندر چیزیں ہیں وہ سب باہر آجائیں گی اور انسان یعنی کا فرلوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہوا تب اس روز زمین با تیں کرے گی اور اپنا حال بتائے گی۔یہ سراسر غلط تفسیر ہے کہ جو قرآن شریف کے سیاق و سباق سے مخالف ہے۔اگر قرآن شریف کے اس مقام پر بنظر غور تدبر کرو تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں یعنی سورہ البينه اور سورہ الزلزال سورہ القدر کے متعلق ہیں اور آخری زمانہ تک اس کا کل حال بتلا رہی ہیں ماسوا اس کے کہ ہر ایک عقل سلیم سوچ سکتی ہے کہ ایسے