حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 281 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 281

281 سورة الزلزال یہ سورۃ اپنی نشانیوں کے ساتھ ایک مصلح کی آمد کی خبر دیتی ہے إِذَا رُکرِکت کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب تم یہ نشانیاں دیکھ تو سمجھ لوکہ وہ لیلتہ القدر اپنے تمام تر زور کے ساتھ پھر ظاہر ہوئی ہے اور کوئی ربانی مصلح خدائے تعالیٰ کی طرف سے مع ہدایت پھیلانے والے فرشتوں کے نازل ہو گیا جیسا کہ فرماتا ہے۔إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ أَجْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَالَهَا۔يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْ حَى لَهَـا - يَوْمَئِذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيَرَوْا أَعْمَالَهُمْ - فَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرَ ايَّرَهُ - وَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرَّ ايَّرَهُ یعنی ان دنوں کا جب آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی عظیم الشان مصلح آئے گا اور فرشتے نازل ہوں گے یہ نشان ہے کہ زمین جہاں تک اس کا ہلا نا ممکن ہے ہلائی جائے گی یعنی طبیعتوں اور دلوں اور دماغوں کو غایت درجہ پر جنبش دی جائے گی اور خیالات عقلی اور فکری اور سبھی اور بہیمی پورے پورے جوش کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات مخفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ ان کے اندر علوم وفنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی اور دماغی طاقتیں اور لیاقتیں ان میں مخفی ہیں سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی اور انسانی قوتوں کا آخری نچوڑ نکل آئے گا اور جو جو ملکات انسان کے اندر ہیں یا جو جو جذبات اس کی فطرت میں مودع ہیں وہ تمام مکمن قوت سے حیرہ فعل میں آجائیں گے اور انسانی حواس کی ہر ایک نوع کی تیزیاں اور بشری عقل کی ہر قسم کی باریک بینیاں نمودار ہو جائیں گی اور تمام دفائن وخزائن علوم مخفیہ و فنون مستورہ کے جو چھپے ہوئے چلے آتے تھے ان سب پر انسان فتح یاب ہو جائے گا اور اپنی فکری اور عقلی تدبیروں کو ہر ایک باب میں انتہاء تک پہنچا دے گا اور انسان کی تمام قوتیں جو نشاء انسانی میں تحمر ہیں صد با طرح کی تحریکوں کی وجہ سے حرکت میں آجائیں گی۔اور فرشتے جو اس لیلتہ القدر میں مرد مصلح کے ساتھ آسمان سے اترے ہوں گے ہر ایک شخص پر اس کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے یعنی نیک لوگ اپنے نیک خیال میں ترقی کریں گے اور جن کی نگاہیں دنیا تک محدود ہیں وہ ان فرشتوں کی تحریک سے دنیوی عقلوں اور معاشرے کی تدبیروں میں وہ ید بیضا دکھلائیں گے کہ ایک مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلی اور فکری طاقتیں ان لوگوں کو کہاں سے