حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 280
280 حضرت اقدس کے دوست اور پیارے کون ہیں اور تم اے میرے عزیز و! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی اور اپنا آرام اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہوں اگر چہ میں جانتا ہوں میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے لیکن میں اس خدمت کیلئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون ہے؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے مجھے کون پہنچاتا ہے صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں اور مجھے اس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور اس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا مگر جوشخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت در پیش ہے اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی مجھ میں کون داخل ہوتا ہے وہی جو بدی کو چھوڑتا اور نیکی اختیار کرتا ہے بچی کو چھوڑتا ہے اور راسی پر قدم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہ مطیع بن جاتا ہے ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور میں اس میں ہوں مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نفس مزکی کے سائے میں ڈال دیتا ہے۔(فتح اسلام۔رخ جلد 3 صفحہ 34) ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش میں نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بغرق ایں جدار ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 145 ) ( در شین صفحه 137 136 )