حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 279
279 تَنَزَّلَ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوحُ میں حضرت اقدس کی بعثت کی خبر ہے غرض اس زمانہ میں جو کچھ نیکی کی طرف حرکتیں ہوتی ہیں اور راستی کے قبول کرنے کے لئے جوش پیدا ہوتے ہیں خواہ وہ جوش ایشیائی لوگوں میں پیدا ہوں یا یورپ کے باشندوں میں یا امریکہ کے رہنے والوں میں وہ در حقیقت انہی فرشتوں کی تحریک سے جو اس خلیفتہ اللہ کے ساتھ اترتے ہیں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔یہی الہی قانون ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔اور بہت صاف اور صریح الفہم ہے۔اور تمہاری بد قسمتی ہے اگر تم اس پر غور نہ کرو۔چونکہ یہ عاجز راستی اور سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لئے تم صداقت کے نشان ہر ایک طرف سے پاؤ گے۔وہ وقت دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اترتی اور ایشاء اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھو گے۔یہ تم قرآن شریف سے معلوم کر چکے ہو کہ خلیفتہ اللہ کے نزول کے ساتھ فرشتوں کا نازل ہونا ضروری ہے تاکہ دلوں کو حق کی طرف پھریں۔سو تم اس نشان کے منتظر رہو۔اگر فرشتوں کا نزول نہ ہوا اور ان کے اترنے کی نمایاں تاثیریں تم نے دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دلوں کی جنبش کو معمولی سے زیادہ نہ پایا تو تم نے یہ سمجھنا کہ آسمان سے کوئی نازل نہیں ہوا۔لیکن اگر یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں تو تم انکار سے باز آؤ تا تم خدا تعالیٰ کے نزدیک سرکش قوم نہ ٹھہرو۔فتح اسلام۔رخ جلد 3 صفحہ 13 ،14 حاشیہ) جب مامور مامور ہو کر آتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور دلوں میں اسی طرف نیک اور پاک خیال پیدا ہوتے ہیں جیسے اس سے پہلے شیاطین برے خیالات پیدا کیا کرتے ہیں اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس کے آنے سے یہ تحریکیں پیدا ہوتی ہیں۔اسی طرح فرمایا إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْر - وَمَا أَدْراكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْر خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میں ملائک نازل ہوں۔کیا یہ کام بغیر امدادالہی کے ہو سکتا ہے؟ کیا یہ مجھ میں آسکتا ہے کہ ایک شخص خود بخو داٹھے اور کسر صلیب کر ڈالے نہیں۔ہاں اگر خدا اسے اٹھا وے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 222 تا 223)