حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 274
274 انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دور دور کے رشتے اور تجارتی اتحاد ہوں گے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت۔اور جس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے کئے جائیں گے مطلب یہ ہے کہ وحشی تو میں تہذیب کی طرف رجوع کریں گی اور ان میں انسانیت اور تمیز آئے گی اور اراذل دنیوی مراتب اور عزت سے ممتاز ہو جائیں گے اور بباعث دنیوی علوم وفنون پھیلنے کے شریفوں اور رذیلوں میں کچھ فرق نہیں رہے گا بلکہ رذیل غالب آجائیں گے یہاں تک کہ کلید دولت اور عنان حکومت ان کے ہاتھ میں ہوگی اور مضمون اس آیت کا ایک حدیث کے مضمون سے بھی ملتا ہے۔اور فرمایا ذَا الشَّمْسُ كُورَت جس وقت سورج لپیٹا جاوے گا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو جائے گی وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ اور جس وقت تارے گدلے ہو جائیں گے یعنی علما کا نو را خلاص جاتا رہے گا۔شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 317 تا 319) میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیشگوئی آیت کریمہ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطّلت پوری ہوئی اور پیشگوئی حدیث وَلَيْتُرَ كَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی یہاں تک کہ عرب اور عجم کے اڈیٹر ان اور اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پر چوں پر بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہورہی ہے یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔اعجاز احمدی۔رخ جلد 19 صفحہ 108) چھٹانشان کتابوں اور نوشتوں کا ظاہر ہونا جیسا کہ آیت وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التكوير: 11) سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ بباعث چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت اشاعت کتابوں کی ہوئی ہے اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔آٹھواں نشان نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہو جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَت سے ظاہر ہے سو بذریعہ ریل اور تار کے یہ عمل ایسا ظہور میں آیا کہ گویاد نیا بدل گئی۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 206) وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (التکویر : 8) بھی میرے ہی لئے ہے۔پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دیئے ہیں۔چنانچہ مطبع کے سامان کا غذ کی کثرت ، ڈاکخانوں ، تار، ریل،اور دخانی جہازوں کے ذریعہ کل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بڑھا رہی ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہو رہے ہیں۔اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔اخباروں اور رسالوں کا اجراء غرض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں مل سکتی۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 49)