حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 268
268 حضرت اقدس رسول اکرم ﷺ کے شاگر داور بروز ہیں وَإِنَّ ادَمَ اخِرِ الزَّمَان حَقِيقَةً هُوَ نَبِيَّنَا۔وَالنِّسْبَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَنِسُبَةِ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔وَإِلَيْهِ أَشَارَسُبْحَا نَهُ فِي قَوْلِهِ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ فَفَكِّرُ فِي قَوْلِهِ آخَرِيْنَ۔وَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيَّ فَيُضَ هَذَا الرَسُولِ فَا تَمَّهُ وَاكْمَلَهُ وَجَذَبَ إِلَيَّ لُطْفَهُ وَجُوْ دَهُ حَتَّى صَارَ وُجُوْدِيَ وُجُودَهُ۔فَمَنْ دَخَلَ فِي جَمَاعَتِي دَخَلَ فِى صَحَابَةِ سَيِّدِى خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ وَهَذَا هُوَ مَعْنَى وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الْمُتَدَتِرِيْنَ۔وَمَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَ مَا رَأَى۔ترجمہ از اصل :- اور آخر زمانہ کا آدم در حقیقت ہمارے نبی کریم ہیں اور میری نسبت اس کی جناب کے ساتھ استاد اور شاگرد کی نسبت ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ وَ خَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے پس اخرین کے لفظ میں فکر کرو اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میر اوجود اس کا وجود ہو گیا۔پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہو در حقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنے ا خَرِينَ مِنْهُمْ کے لفظ کے بھی ہیں جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفے میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔(خطبہ الہامیہ رخ جلد 16 صفحه 257 259) إِنَّ اللَّهَ كَانَ أَوْحَى إِلَيَّ وَقَالَ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ يَعْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَلَّمَكَ مِنْ تَاثِيرِ رُوْحَا نِيَّتِهِ وَ أَفَاضَ إِنَاءَ قَلْبِكَ بِفَيْضِ رَحْمَتِهِ لِيُدْخِلَكَ فِي صَحَابَتِهِ وَ لِيُشْرِكَكَ فِي بَرَكَتِهِ وَلِيُتِمَّ نَبَاءَ اللَّهِ وَا خَرِيْنَ مِنْهُمْ بِفَضْلِهِ وَ مِتَّتِهِ ترجمه از مرتب: اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی اور فرمایا كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّم یعنی نبی کریم ﷺ نے تمہیں اپنی روحانیت کی تاثیر کے ذریعہ سکھایا اور اپنی رحمت کا فیض تیرے دل کے برتن میں ڈال دیا تا تجھے اپنے صحابہ میں داخل کریں اور تجھے اپنی برکت میں شریک کریں اور تا اللہ تعالیٰ کی خبر وَالخَرِيْنَ مِنْهُمُ اس کے فضل اور اس کے احسان سے پوری ہو۔(خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحہ 310 حاشیہ)