حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 264
264 سورة الجمعة وا خَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُو بهم اس آیت کے مصداق حضرت اقدس ہیں هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ ـلِمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ وَا خَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ O (الجمعة: 3-4) اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خداوہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانی علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہوگئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے یعنی خدا اور اس کی صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے تھے تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول اُمتی بھیجا اور اس رسول نے ان کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے ان کو مملو کیا یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقین کامل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے نور سے ان کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے تب خدا انکو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اُن کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بالثرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اٹھ گیا ہو گا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اس کو واپس لائے گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہو گا۔اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا۔یہی وہ زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ایام اصبح - رخ جلد 14 صفحہ 304) خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اس امت کا وہ ہوگا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَا خَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا یعنی امت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنے والے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لَوْ كَانَ الُا يْمَانُ مُعَلَّقًا بالثرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارس اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق معین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ - (حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 407 حاشیہ) دہے۔الصد