حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 252
252 سورة الكهف فتنہ دجال اور حضرت اقدسن حدیث میں آیا ہے کہ جب تم دجال کو دیکھو تو سورۃ کہف کی پہلی آیتیں پڑھو اور وہ یہ ہیں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَب وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا قَيِّمَالِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِّنُ لَّدُنُهُ۔۔۔۔۔وَّيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا التَّخَذَ اللَّهُ وَلَدَاهِ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (الکہف: 2 تا 6) ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دجال سے کس گروہ کو مرا در کھا ہے اور عوج کے لفظ سے اس جگہ مخلوق کو شریک الباری ٹھہرانے سے مراد ہے جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے اور اسی لفظ سے فیج اعوج مشتق ہے اور فیج اعوج سے وہ درمیانی زمانہ مراد ہے جس میں مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح کو بعض صفات میں شریک الباری ٹھہرادیا۔اس جگہ ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر دجال کا بھی کوئی علیحدہ وجود ہوتا تو سورۃ فاتحہ میں اس کے فتنہ کا بھی ذکر ضرور ہوتا اور اس کے فتنہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی علیحدہ دعا ہوتی۔مگر ظاہر ہے کہ اس جگہ یعنی سورۃ فاتحہ میں صرف مسیح موعود کو ایزا دینے سے بچنے کیلئے اور نصاری کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کی گئی ہے حالانکہ بموجب خیالات حال کے مسلمانوں کا دجال ایک اور شخص ہے اور اس کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑھ کر ہے تو گویا نعوذ باللہ خدا بھول گیا کہ ایک بڑے فتنے کا ذکر بھی نہ کیا اور صرف دو فتنوں کا ذکر کیا ایک اندرونی یعنی مسیح موعود کو یہودیوں کی طرح ایزاد ینا دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا یادرکھواور خوب یاد رکھ کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کیلئے دعا سکھلائی گئی ہے۔(1) اول یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کا فر قرار دینا۔اُس کی توہین کرنا۔اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔اُس کے قتل کا فتوی دینا جیسا کہ آیت غیر المغضوب علیہم میں انہیں باتوں کی طرف اشارہ ہے(2) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاریٰ ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا۔اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔(تحفہ گولڑو یہ رخ جلد 17 صفحہ 210-212) حضرت اقدس کی بعثت یا جوج ماجوج کے وقت میں ہوگی مسیح موعود کا یا جوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے اور کیونکہ اپنی آگ کو کہتے ہیں جس سے یاجوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے اس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یا جوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے جہاز ان کی ریلیں۔ان کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی اور ان کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ یا جوج ماجوج کہلائیں گے سو وہ یورپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنون میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کیا جائے۔پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یورپ کے لوگوں کو ہی یا جوج ماجوج ٹھہرایا ہے بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایا تخت روس تھا سو مقرر ہو چکا تھا کہ سیح موعود یا جوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا۔ایام اسح - رخ جلد 14 صفحہ 424 425)