حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 249 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 249

249 مخصوص ستاروں کے ظہور کے اعتبار سے فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ۔(الواقعة: 76) فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِع النُّجُومِ وانت تفهم ان في هذا القول اشارة الى ان للنجوم ومواقعها صلث بتجسس زمان النبوت و نزول الوحي ولا جل ذلك قيل ان بعض النجوم لا يطلع الا فى وقت ظهور نبى من الانبياء۔فطوبي للذي يفهم اشارات الله ثم يقبلها كا لتقات۔ترجمه از مرتب : - فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ - تو سمجھتا ہے کہ اس قول میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ستاروں اور ان کے مواقع کو زمان نبوت اور نزول وحی کے تجسس سے ایک تعلق ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ بعض ستارے صرف کسی نبی کے وقت میں ہی نکلتے ہیں۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اشاروں کو سمجھتے ہیں پھر انہیں متقیوں کی طرح قبول کرتے ہیں۔(حمامتہ البشری۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 289) مطھر اور متقی ہونے کے اعتبار سے لاَ يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔(الواقعه: 80) علم دین آسمانی علوم میں سے ہے اور یہ علوم تقویٰ اور طہارت اور محبت الہیہ سے وابستہ ہیں اور سگ دنیا کو مل نہیں سکتے۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ قول موجہ سے اتمام حجت کرنا انبیاء اور مردان خدا کا کام ہے اور حقانی فیوض کا مورد ہونا فانیوں کا طریق ہے اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ پس کیونکر ایک گندہ اور منافق اور دنیا پرست ان آسمانی فیضوں کو پاسکتا ہے جن کے بغیر کوئی فتح نہیں ہو سکتی اور کیونکر اس دل پر روح القدس بول سکتا ہے جس میں شیطان بولتا ہو۔( البلاغ۔رخ - جلد 13 صفحہ 373-372)