حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 236 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 236

236 یا درکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اگر دنی چپڑاسی کی بنک کی جائے اس کی بات نہ مانی جائے تو گورنمنٹ سے ہتک کرنے والے یا نہ ماننے والے کو سزا ملتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی کرنا اس کی بات کی پرواہ نہ کرنا کیونکر خالی جا سکتا ہے۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرا سلسلہ خدا کی طرف سے نہیں تو یونہی بگڑ جائے گا خواہ کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے کیوں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى (ط :62) اور فرما يامَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام: 22) اور وہ شخص جو رات کو ایک بات بنا تا اور دن کولوگوں کو بتا تا اور کہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیوں کر با مراد اور بابرگ و بار ہو سکتا ہے اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کوفرماتا ہے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ه جب ایک ایسے عظیم الشان انسان کے واسطے ایسا فرمان ہے تو پھر ادنی انسان کے واسطے چھوٹی سی چُھری کی ضرورت تھی اور کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 670-671) کامل علم غیب اور کثرت مکالمہ مخاطبہ کے اعتبار سے علِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ اَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (الجن: 28 27) کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدّث اور مجد دہوں۔ایام الصلح - ر- خ جلد 14 صفحہ 419 حاشیہ ) احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسی اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت مکالمہ ومخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَلَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِةٍ أَحَدًاه إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشتا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اُس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدرا مور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 406)