حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 235 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 235

235 وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَيْنَا۔۔۔۔۔کے اعتبار سے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ وَلَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَامِنُهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ (الحاقة: 45-48) تقول کا حکم قطع اور یقین کے متعلق ہے۔پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کاظمی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور پر میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اُس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اُس کو ر ڈ کر دیا۔میں صرف یہ نہیں کہتا کہ میں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا بلکہ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ اور عیسی اور داؤ داور آنحضرت ﷺ کی طرح میں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے بھی زائد نشان دکھلائے ہیں۔قرآن نے میری گواہی دی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی ہے اور زمین نے بھی۔اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو میں نے کہا کہ میرے دس ہزار نشان ہیں یہ بطور کفایت لکھا گیا ورنہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ سفید کتاب ہزار جز کی بھی کتاب ہو اور اس میں میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتا ہوں وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔(تحفتہ الندوہ۔رخ جلد 19 صفحہ 95-96) ہم اپنی زبان سے کسی کو مفتری نہیں کہتے جبکہ وحی شیطانی بھی ہوتی ہے تو ممکن ہے کسی سادہ لوح کو دھوکا لگا ہو اس لئے ہم فعل الٹی کی سند پیش کرتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے بھی یہ پیش کی تھی اور خدا تعالیٰ نے فعل پر بہت مدار رکھا ہے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاقَاوِيْلِ هِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ 0 میں فعل ہی کا ذکر ہے۔پس جبکہ یہ مسنون طریق ہے تو اس سے کیوں گریز ہے۔ہم لوگوں کے سامنے ہیں اور اگر قریب سے کام کر رہے ہیں تو خدا تعالیٰ ایسے عذاب سے ہلاک کرے گا کہ لوگوں کو عبرت ہو جاوے گی اور اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ضرور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو پھر دوسرے لوگ ہلاک ہو جاویں گے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 235)