حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 234 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 234

234 من میزیم بوحي خدائے کہ بامن است پیغام اوست چون نفس روح پرورم میں تو اس خدا کی وحی کے سہارے جیتا ہوں جو میرے ساتھ ہے اس کا الہام میرے لئے زندگی بخش سانس کی طرح ہے۔من رخت بروه ام بعمارت یار خویش دیگر خبر مپرس ازیں تیره کشورم میں نے تو اپنے دوست کے گھر میں ڈیرہ ڈال دیا ہے پس تو اس اندھیرے جہان کے متعلق مجھ سے کچھ نہ پوچھ۔عشقش بتارو پود دل من درون شد است مهرش شد است در رو دیں مہر انورم اس کا عشق میرے دل کے رگ وریشہ میں داخل ہو گیا ہے اور اس کی محبت راہ دین میں میرے لئے چمکتا ہوا سورج بن گئی ہے۔راز محبت من و او فاش گرشدی بسیارتن کہ جاں بفشاندے بریس ورم اگر میری اور اس کی محبت کا راز ظاہر ہو جاتا۔تو بہت سی خلقت میرے دروازہ پر اپنی جانیں قربان کر دیتی۔( در نشین فارسی مترجم صفحہ 163 ) (ازالہ اوہام۔رخ جلد 3 صفحہ 183،182) مسلمانوں کا یہود صفت ہونے کے اعتبار سے تب اس یہودیت کی بیچگنی کے لئے مسیح ابن مریم نازل ہوگا یعنی مامور ہو کر آئے گا اور فرمایا کہ جیسا کہ یہ امت یہودی بن جائے گی ایسا ہی ابن مریم بھی اپنی صورت مثالی میں اسی امت میں سے پیدا ہوگا نہ یہ کہ یہودی تو یہ امت بنی اور ابنِ مریم بنی اسرائیل میں سے آوے۔ایسا خیال کرنے میں سراسر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے اور نیز آيت ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (الواقعة: 40 41) کے برخلاف۔(ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 420) مردم نااہل گویندم که چون عیسی شدی بشنو از من این جواب شاں کہ اے قوم حسود نالائق لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو عیسی کیونکر ہو گیا مجھ سے ان کا جواب سن جو یہ ہے کہ اے حاسد قوم۔چوں شمارا شد یہود اندر کتاب پاک نام پس خدا عیسی مرا کرد است از بهر یهود چونکہ قرآن میں تمہارا نام یہودی رکھا گیا ہے اس لئے خدا نے مجھے یہودیوں کے لئے عیسی بنا دیا۔ورنه از روئے حقیقت نیم ایشاں عیستید نیز ہم من ابن مریم نیستم اندر وجود ور نہ دراصل تم ان یہودیوں کے تخم سے نہیں اور میں بھی جسمانی طور پر ابن مریم نہیں ہوں۔گر نه بودندے شما مارا نبودے ہم اثر از شما شد ہم ظهورم پس زغو غابا چه سود اگر تم نہ ہوتے تو ہمارا نشان بھی نہ ہو تا صرف تمہاری وجہ سے میر اظہور ہوا۔پھر غل مچانے سے کیا فائدہ؟ هر چه بود از نیک و بد در دین اسرائیلیاں آن همه در ملت احمد نقوش خود نمود یہودیوں کے مذہب میں جو بھلی بری باتیں موجود تھیں وہ سب دین احمد میں بھی پیدا ہو گئیں۔( در تمین فارسی مترجم صفحه 311) ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 304)