حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 221 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 221

221 ابن مریم پر فضیلت کے دعوی کو یہ لوگ بڑی بُری نگاہ سے دیکھتے ہیں، مگر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صریح وجی سے مجھے معلوم کرایا گیا ہے کہ محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر ہے اور غور کر کے دیکھ لو ہر ایک بات اس سلسلہ کی موسوی سلسلہ سے بڑھی ہوئی ہے۔موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کیلئے آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور فرمایا گیا۔مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ۔(الانبياء : 108) پھر آپ کی تائیدات موسیٰ علیہ السلام کی تائیدات سے بڑھ کر۔آپ کے اعجازی نشان بڑھ کر۔آپ کو جو کتاب دی گئی وہ موسیٰ کی کتاب سے بڑھ کر۔ہمیشہ کے لیے۔غرض کل سامان بڑھ کر۔کامیابیاں بڑھ کر۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر نہ ہو؟ ہم ایسے نبی کے وارث ہیں جو رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْنَ اور كَافَّةً لِلنَّاسِ (سباء: 29) کے لیے رسول ہو کر آیا۔جس کی کتاب کا خدا محافظ اور جس کے حقائق و معارف سب سے بڑھ کر ہیں۔پھر ان معارف اور حقائق کو پانے والا کیوں کم ہے؟ ایک نیا نکتہ بنیانا ( ملفوظات جلد دوم صفحه - 291) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 255) بعد نماز مغرب حضرت اقدس نے اس تقریر کا اعادہ فرمایا جو کہ مورخہ 15 اپریل کی سیر میں درج ہو چکی ہے۔اسکی تکمیل میں ایک نئی بات یہ فرمائی کہ:۔اس وقت میں امت موسوی کی طرح جو مامور اور مجد دین آئے ان کا نام نبی نہ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختم نبوت میں فرق نہ آوے (جس کا مفصل ذکر قبل از میں گذر چکا ہے ) اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق آتا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم۔ابراہیم۔نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتی کہ آخر کار جرى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کہا۔گویا اس سے سب اعتراض رفع ہو گئے اور آپ کی امت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا۔عجب مدار اگر خلق سوئے ما بدوند کہ ہر کجا که غنی می بود گدا باشد اگر مخلوقات ہماری طرف دوڑ کر آئے تو تعجب نہ کر کہ جہاں دولتمند ہوتا ہے وہاں فقیر جمع ہو جاتے ہیں گلے کہ روئے خزاں را گہے نخوابد دید بباغ ماست اگر قسمتت رسا باشد وہ پھول جو کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھے گا وہ ہمارے باغ میں ہے اگر تیری قسمت یاور ہو منم مسیح بیانگ بلند می گویم منم خلیفہ شا ہے کہ برسما باشد میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ میں ہی مسیح ہوں اور میں ہی اس بادشاہ کا خلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے مقدر است که روزے بریں ادیم زمیں جان بر رهم فدا باشد یہ بات مقدر ہو چکی ہے کہ ایک دن روئے زمین پر ہزاروں جان و دل میری راہ میں قربان ہوں گے ہزا رہا دل و تریاق القلوب - ر-خ- جلد 15 صفحہ 132 ) ( در تین فارسی مترجم صفحه 267)