حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 222
222 ذکریا 14 باب میں مذکور ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود کے عہد میں سخت طاعون پڑیگی۔اس زمانہ میں تمام فرقے دنیا کے متفق ہونگے کہ یروشلم کو تباہ کر دیں۔تب انہی دنوں میں طاعون پھوٹے گی اور اسی دن یوں ہوگا کہ جیتا پانی یوروشلم سے جاری ہو گا۔یعنی خدا کا مسیح ظاہر ہو جائے گا۔اور اس جگہ یروشلم سے مراد بیت المقدس نہیں ہے بلکہ وہ مقام ہے جس سے دین کے زندہ کرنے کے لئے الہی تعلیم کا چشمہ جوش ماریگا اور وہ قادیان ہے۔جو خدا تعالیٰ کی نظر میں دارالامان ہے۔خدا تعالیٰ نے جیسا کہ اس امت کے خاتم الخلفاء کا نام سیح رکھا ویسا ہی اسکے خروج کی جگہ کا نام یروشلم رکھدیا اور اس کے مخالفوں کا نام یہو درکھ دیا۔منہ ( نزول مسیح۔رخ - جلد 18 صفحہ 420) ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل شریعت لے کر آئے جو نبوت کے خاتم تھے اس لئے زمانہ کی استعدادوں اور قابلیتوں نے ختم نبوت کر دیا تھا۔پس حضور علیہ السلام کے بعد ہم کسی دوسری شریعت کے آنے کے قائل ہرگز نہیں۔ہاں جیسے ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسی" تھے اسی طرح آپ کے سلسلہ کا خاتم جو خاتم الخلفاء یعنی مسیح موعود ہے ضروری تھا کہ مسیح علیہ السلام کی طرح آتا۔پس میں وہی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود ہوں۔جیسے مسیح کوئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے بلکہ شریعت موسوی کے احیاء کے لئے آئے تھے میں کوئی جدید شریعت لے کر نہیں آیا اور میرا دل ہرگز نہیں مان سکتا کہ قرآن شریف کے بعد اب کوئی اور شریعت آ سکتی ہے کیونکہ وہ کامل شریعت اور خاتم الکتب ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے شریعت محمدی کے احیاء کے لئے اس صدی میں خاتم الخلفاء کے نام سے مبعوث فرمایا ہے۔حضرت اقدس کی رسالت کے اعتبار سے ( ملفوظات جلد اول صفحہ 490) كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔(المجادله: 22) ( نزول اسیح - رخ۔جلد 18 صفحہ 381-380) خدا نے ابتداء سے لکھ چھوڑا ہے اور اپنا قانون اور اپنی سنت قرار دے دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پاکر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں اس لئے میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم سے یعنی آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمیشہ مفہوم اس آیت کا سچا نکلتا آیا ہے ایسا ہی اب بھی میرے حق میں سچا نکلے گا۔بِمُطَّلِعٍ عَلَى أَسْرَارِ بَالِي بِعَالِمٍ عَيْبَتِي فِي كُلِّ حَالِي قسم اس ذات کی جو میرے دل کے بھیدوں سے آگاہ ہے اور قسم اس ذات کی جو ہر حال میں میرے سینے کا راز سے واقف ہے۔بِوَجُهِ قَدْ رَأَى أَعْشَارَ قَلْبِي بِمُسْتَمِعِ لِصَرْخِي فِي اللَّيَالِي قسم اس ذات کی جو میرے دل کے تمام گوشوں سے واقف ہے اور قسم اس ذات کی جو راتوں کو میرے آہ وزاری کو سننے والا ہے۔لقد أرسِلْتُ مِنْ رَّبِّ كَرِيم رَحِيمِ عِندَ طُوفَانِ الضَّلَالِ بے شک میں رب کریم رحیم کی طرف سے طوفانِ ضلالت کے وقت بھیجا گیا ہوں۔آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 594)