حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 205
205 سورۃ نور میں صریح اشارہ فرماتا ہے کہ ہر ایک رنگ میں جیسے بنی اسرائیل میں خلیفے گذرے ہیں وہ تمام رنگ اس امت کے خلیفوں میں بھی ہوں گے چنانچہ اسرائیلی خلیفوں میں سے حضرت عیسیٰ ایسے خلیفے تھے جنہوں نے نہ تلوار اٹھائی اور نہ جہاد کیا۔سو اس امت کو بھی اسی رنگ کا مسیح موعود دیا گیا دیکھو آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ۔۔۔۔وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ - ( النور : 56) اس آیت میں فقرہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قابل غور ہے کیونکہ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ محمدی خلافت کا سلسلہ موسوی خلافت کے سلسلہ سے مشابہہ ہے اور چونکہ موسوی خلافت کا انجام ایسے نبی پر ہوا یعنی حضرت عیسیٰ پر جو حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی کے سر پر آیا اور نیز کوئی جنگ اور جہاد نہیں کیا اس لئے ضروری تھا کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمدی کا بھی اسی شان کا ہو۔(لیکچر سیالکوٹ۔رخ جلد 20 صفحہ 214-213) ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلَّيْفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِ هِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ 0 (يونس: 15) قرآن شریف کی رُو سے سلسلہ محمد یہ سلسلہ موسویہ سے ہر ایک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (الاعراف: 130) دوسری جگہ مسلمان کے حق میں لکھا ہے لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُون (یونس : 15) اِن دونوں آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ خدا تمہیں خلافت و حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کئے ہیں وہی مسلمانوں کے لئے۔یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے پس ان آیتوں سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کونسا ثبوت ہو سکتا ہے کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دے دیا اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء ان کے اس اُمت کے علماء بھی انہیں بدیوں کے مرتکب ہوں گے اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں بھی اشارہ ہے کہ کیونکہ اس آیت میں باتفاق گل مفسرین مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے مراد وہ یہود ہیں جن پر حضرت عیسی کے انکار کی وجہ سے غضب نازل ہوا تھا اور احادیث صحیحہ میں مغضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود جو مور د غضب الہی دُنیا میں ہی ہوئے تھے اور قرآن شریف یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہود کو مغضوب علیہم ٹھہرانے کے لئے حضرت عیسی کی زبان پر لعنت جاری ہوئی تھی۔پس یقینی اور قطعی طور پر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی پر ہلاک کرنا چاہا تھا۔اب خدا تعالی کا یہ دعا سکھلانا کہ خدایا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسی کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ اُمت محمدیہ میں بھی ایک عیسی پیدا ہونے والا ہے ورنہ اس دعا کی کیا ضرورت تھی۔( تذکرہ الشہادتین۔رخ جلد 20 صفحہ 13)