حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 193 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 193

193 دواحمد ہونے کے اعتبار سے وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأَوْلَى وَ الْآخِرَةِ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔(القصص: 71) فَأَوْمِي فِيْهِ إِلَى أَحْمَدَيْنِ وَ جَعَلَهُمَا مِنْ نُعَمَائِهِ الْكَاثِرَةِ۔فَالْاَوَّلُ مِنْهُمَا أَحْمَدُ الْمُصْطَفَى وَرَسُوْلُنَا الْمُجْتَنِي۔وَالثَّانِيُّ أَحْمَدُ احَرُ الزَّمَانِ الَّذِى سُمِّيَ مَسِيْحًا وَ مَهْدِيَّا مِّنَ اللَّهِ الْمَنَّانِ۔وَقَدِ اسْتَنْبِطَتْ هَذِهِ النُّكْتَةُ مِنْ قَوْلِهِ۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔فَلْيَتَدَبَّرْ مَنْ كَانَ مِنَ الْمُتَدَبَّرِيْنَ۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 139) ( ترجمہ از مرتب ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمدوں کا ذکر فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفے اور رسول مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرا احمد احمد آخرالزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ سے اخذ کیا ہے۔پس ہر غور وفکر کرنے والے کو غور کرنا چاہئے۔فَحَاصِلُ هَذَا الْبَيَان اَنَّ اللهَ خَلَقَ أَحْمَدَيْنِ فِي صَدْرِ الْإِسْلَام وَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَأَشَارَ إِلَيْهِمَا بِتَكْرَارِ لَفْظِ الْحَمْدَ فِي أَوَّلِ الْفَاتِحَةِ وَ فِي آخِرِهَا لِأَهْلِ الْعِرْفَانِ وَ فَعَلَ كَذَالِكَ لِيَرُدَّ عَلَى النَّصْرَانِيِّينَ۔وَ أَنْزَلَ أَحْمَدَيْنِ مِنَ السَّمَاءِ لِيَكُوْنَا كَالْجِدَارَيْنِ لِحَمَايَةِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخَرِيْنَ۔اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 198) ( ترجمه از مرتب )۔پس خلاصہ بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا کئے ایک اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور ایک آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظاً ومعنا تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں) کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لئے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو احمد آسمان سے اتارے تا وہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لئے دو دیواروں کی طرح ہو جائیں۔ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش میں نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دستِ دشمن تا بفرق ایں جدار (براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 145 ) ( در مشین اردو صفحہ 137 136 )