حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 192
192 تیسری فصل حضرت اقدس کا ذکر متفرق آیات قرآنیہ میں باری تعالیٰ کے اسم آخر کے مظہر ہونے کے اعتبار سے هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (الحديد : 4 ) وَإِنَّ الْمَسِيحَ مَظْهَرٌ لا سُمِ اللهِ الَّذِى هُوَ خَاتَمُ سِلْسَلَةِ الْمَخْلُوقَاتِ۔أَعْنِي الَّا خِرَ الَّذِي أُشِيْرَ إِلَيْهِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى هُوَ الْأَخِرُ لِمَا هُوَ عَلَا مَةٌ لِمُنْتَهَى الْكَائِنَاتِ۔فَلَا جُلِ ذَالِكَ اقْتَضَتْ نَفْسُ الْمَسِيحِ خَتَمَ سِلْسَلَةِ الْكَثْرَةِ بِالْمَمَاتِ أَوْ بِرَةِ الْمَذَاهِبِ إِلى دِينِ فِيْهِ مَوْتُ النُّفُوسِ مِنَ الْأَهْوَاءِ وَالْإِرَادَاتِ وَالْإِسْلاكِ عَلَى الشَّرِيعَةِ الْفِطْرِيَّةِ الَّتِي تَجْرِى تَحْتَ الْمَصَالِحِ الَّا لَهِيَّةِ وَتَخْلِيُصِ النَّاسِ مِنْ مَيْلِ النَّفْسِ بِهَوَاهَا إِلَى الْعَفْوِ وَالْاِنْتِقَامِ وَالْمُحَبَّةِ وَالْمُعَادَاتِ۔ترجمه از مرتب :۔یقینا صحیح جو سلسلہ مخلوقات کا خاتم ہے وہ اللہ کے اسم آخر کا مظہر ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے قول هو الاخر میں اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ وہ کائنات کی انتہاء کی علامت ہے اس لئے نفس مسیح نے کثرت کے سلسلہ کو موت کے ذریعہ ختم کرنے کا تقاضا کیا یامذہب کو ایسے دین کی طرف لوٹا دینے کے ساتھ جس میں نفس کو ارادوں اور شہوات سے ماردینے کی تعلیم دیتا ہے اور ایسی فطری شریعت پر چلنے کی تعلیم ہے جو مصالح الہیہ کے ماتحت چلتی ہے اور جس میں لوگوں کے نفوس کو ان کی خواہشات کے مطابق عفو، انتقام، محبت اور دشمنی کی طرف مائل ہونے سے نجات دلانے کا سامان ہے۔(خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحہ 308) اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان خدا کی اولیت کا مظہر تھا اور ایک انسان خدا کی آخریت کا مظہر ہوگا اور لازم تھا کہ دونو انسان ایک صفت میں برعایت خصوصیات متحد ہوں۔پس جبکہ آدم نر اور مادہ پیدا کیا گیا اور ایسا ہی شیث کو بھی۔تو چاہئے تھا کہ آخری انسان بھی نر اور مادہ کی شکل پر پیدا ہو اس لئے قرآن کے حکم کے رو سے وہ وعدہ کا خلیفہ اور خاتم الخلفاء جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہنا چاہئے اسی طور سے پیدا ہونا ضروری تھا کہ وہ تو ہم کی طرح تولد پاوے اس طرح سے کہ پہلے اس سے لڑکی نکلے اور بعد اس کے لڑکا خارج ہوتا وہ خاتم الولد ہو۔تریاق القلوب -رخ- جلد 15 صفحہ 485 484) کار من شد کار دلدار ازل پیکرم شد پیکر یار ازل میرا وجود اس یا راز لی کا وجود بن گیا اور میرا کام اس دلدار قدیم کا کام ہو گیا۔بسکه جانم شد نہاں در یار من بوئے یار آمد ازیں گلزار من چونکہ مری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لئے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی۔از گریبانم بر آمد دلیرے نور حق داریم زیر چادرے ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے۔وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا۔احمد آخر زمان نام من است آخریں جامے ہمیں جام من است احمد آخر زماں میرا نام ہے اور میرا جام ہی ( دنیا کے لئے ) آخری جام ہے۔در مشین فارسی مترجم صفحه 239) (سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 101 )