حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xxii of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxii

xix دین اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے اور اس کی حفاظت اور سرفرازی کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے دو زمانے اور دو احمد مقرر فرمائے تھے۔اول حقیقی زمانہ اور حقیقی احمد آنحضرت ﷺ تھے کہ آپ خاتم النبین ہیں اور حقیقت میں آپ ہی احمد اور محمد علی ہیں۔دوسرا زمانہ اور دوسرا احمد آپ ہی کے ظل اور بروز کے طور پر ہونا تھا جس کے فرائض منصبی آپ کے دین اور آپ ہی کے اسوہ کو زندہ کرنا تھا۔اس مضمون کو حضرت اقدس سورۃ قصص کی آیت 71 وَ هُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ۔۔۔الایہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔انه تعالى ما اختار لنفسه ههنا اربعة من الصفات الا ليرى نموذجها في هذه الدنيا قبل الممات۔فاشار فى فوله ولله الحمد في الاولى والاخرة الى ان هذا النموذج يعطى لصدر الاسلام۔ثم للاخرين من الامة الداخرة۔وكذالك قال فى مقام اخر وهو اصدق القائلين ثلة من الاولين و ثلة من الاخرين فقسم زمان الهداية والعون والنصرة الى زمان نبينا صلى الله عليه وسلم و الى الزمان الاخر الذى هو زمان مسيح هذه الملة وكذالک قال و آخرین منهم لما يلحقوا بهم فاشار الى المسيح الموعود و جماعته والذين اتبعو هم فثبت بنصوص بينة من القران ان هذه الصفات قد ظهرت في زمن نبينا ثم تظهر في اخر الزمان و هو زمان يكثر فيه الفسق و الفساد ويقل الصلاح والسداد۔اعجاز مسیح رخ - جلد 18 صفحہ 155-153) ( ترجمه از مرتب ) اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی ذات کی چار صفات کو محض اس لئے اختیار کیا ہے کہ تا وہ اس دنیا میں ہی انسان کو ( یعنی دنیا کی ) موت سے پہلے ان صفات کا نمونہ دکھائے۔پس اس نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَ الْآخِرَةِ میں اشارہ فرمایا۔کہ یہ نمونہ آغاز اسلام میں بھی عطا کیا جائے گا اور پھر امت کی خواری کے بعد اس کے آخری لوگوں کو بھی ( عطا کیا جائے گا ) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ( قرآن مجید میں ) فرمایا ہے اور وہ بات کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ سچا ہے۔ثُلَّةٌ مِنَ الْاَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخَرِينَ (الواقعة:14 ) پس اللہ تعالیٰ نے ہدایت مد داور نصرت کے زمانہ کو ہمارے نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر اور اس آخری زمانہ پر جو اس امت کے مسیح کا زمانہ ہے تقسیم کر دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) اس میں مسیح موعود اس کی جماعت اور ان کے تابعین کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔پس قرآن کریم کی نصوص بینہ سے ثابت ہوا کہ یہ صفات ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوئیں پھر آخری زمانہ میں بھی ظاہر ہوں گی۔اور آخری زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں بدکاری اور ہر قسم کی خرابیاں بکثرت پھیل جائیں گی اور راستی بہت ہی کم ہو جائے گی۔اس آیت کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں۔فاوى فيه الى احمدين و جعلهما من نعمائه الكاثرة۔فالا ول منهما احمد المصطفى و رسولنا المجتبى۔و الثاني احمد اخر الزمان الذى سمى مسيحا و مهديا من الله المنان۔وقد استنبطت هذه النكتة من قوله۔الحمد لله رب العالمين فليتدبر من كان من المتدبرين۔اعجاز امسیح۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 139 )