حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 185
185 اللہ تعالیٰ نے ہم کو سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی۔کہ اے خدا نہ تو ہمیں مغضوب علیہم میں سے بنا ئیو اور نہ ضالین میں سے۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ ان ہر دو کا مرجع حضرت عیسی ہی ہیں مغضوب علیہ وہ قوم ہے جس نے حضرت عیسی کے ساتھ عداوت کرنے اور ان کو ہر طرح سے دکھ دینے میں غلو کیا اور ضالین وہ لوگ ہیں جنہوں نے اُن کے ساتھ محبت کرنے میں غلو کیا اور خدائی صفات اُن کو دیدیئے۔صرف ان دونو کی حالت سے بچنے کے واسطے ہم کو دعا سکھلائی گئی ہے اگر دجال ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا۔تو یہ دعا اس طرح سے ہوتی کہ غَيْر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الدَّجال - یہ ایک پیشگوئی ہے جو کہ اس زمانہ کے ہر دو قسم کے شر سے آگاہ کرنے کے واسطے مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کرتی ہے۔یہ عیسائیوں کے مشن ہی ہیں جو کہ اس زمانہ میں ناخنوں تک زور لگا رہے ہیں کہ اسلام کو سطح دنیا سے نابود کر دیں اسلام کے واسطے یہ سخت مضر ہورہے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 57-58) قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے کہ اس امت پر دوزمانے بہت خوفناک آئیں گے ایک وہ زمانہ جو ابوبکر کے عہد خلافت میں آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آیا اور دوسرا وہ زمانہ جو دجالی فتنہ کا زمانہ ہے جو مسیح کے عہد میں آنیوالا تھا جس سے پناہ مانگنے کے لئے اس آیت میں اشارہ ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اور اسی زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی سورہ نور میں موجود ہے وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا۔(النور: 56) اس آیت کے معنے پہلی آیت کے ساتھ ملا کر یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دین پر آخری زمانہ میں ایک زلزلہ آئے گا اور خوف پیدا ہو جائیگا کہ یہ دین ساری زمین پر سے گم نہ ہو جائے۔تب خدا تعالی دوبارہ اس دین کو روئے زمین پر متمکن کر دے گا اور خوف کے بعد امن بخش دیگا۔لیکچر لاہور۔رخ جلد 20 صفحہ 187) معانی مغضوب“ اور ” ضال حدیث رسول اکرم کے مطابق بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سورۃ فاتحہ میں اَلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود اور الضالین سے مراد نصاری ہیں۔(دیکھو کتاب در منشور صحہ نمبر 9)۔اور عبدالرزاق اور احمد نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور بغوی نے معجم الصحابہ میں اور ابن منذر اور ابوالشیخ نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے۔قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرى عَلَى فَرَسٍ لَّهُ وَسَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي الْعَيْنِ فَقَالَ مَنِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ يَارَسُولَ اللهِ - قَالَ الْيَهُودُ - قَالَ فَمَن الضَّالُونَ قَالَ النَّصَاری۔یعنی کہا کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے آنحضرت ﷺ سے سنا تھا جب کہ آپ وادی تحر مٹی میں گھوڑے پر سوار تھے کہ بنی عین میں سے ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ سورۃ فاتحہ میں مغضوب علیہم سے کون مراد ہے فرمایا کہ یہود پھر سوال کیا کہ ضالین سے کون مراد ہے فرمایا کہ نصاری۔(در منثور صفحہ 17) (تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 حاشیہ صفحہ 229)