حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 179 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 179

179 المغضوب علیھم میں حضرت اقدس کی بعثت کی پیشگوئی ہے یہ نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے کہ سورۃ فاتحہ میں جو آیا ہے کہ غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ وَه اسی معرکہ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہود نے خدا کے پاک اور مقدس نبی کو عمد ا محض شرارت سے تعنی ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کا غضب اپنے پر نازل کیا اور مغضوب علیہم ٹھہرے حالانکہ ان کو پتہ بھی لگ گیا تھا کہ حضرت مسیح قبر میں نہیں رہے اور وہ پیشگوئی اُن کی پوری ہوئی کہ یونس کی طرح میرا حال ہوگا یعنی زندہ ہی قبر میں جاؤں گا اور زندہ ہی نکلوں گا اور نصاری گو حضرت مسیح سے محبت کرتے تھے مگر محض اپنی جہالت سے انہوں نے بھی لعنت کا داغ حضرت مسیح کے دل کی نسبت قبول کر لیا اور یہ نہ سمجھا کہ لعنت کا مفہوم دل کی ناپاکی سے تعلق رکھتا ہے اور نبی کا دل کسی حالت میں نا پاک اور خدا کا دشمن اور اس سے بیزار نہیں ہوسکتا پس اس سورۃ میں بطور اشارت مسلمانوں کو یہ سکھلایا گیا ہے کہ یہود کی طرح آنیوالے مسیح موعود کی تکذیب میں جلدی نہ کریں اور حیلہ بازی کے فتوے تیار نہ کریں اور اس کا نام لعنتی نہ رکھیں۔ورنہ وہی لعنت الٹ کر ان پر پڑے گی ایسا ہی عیسائیوں کی طرح نادان دوست نہ بنیں اور ناجائز صفات اپنے پیشوا کی طرف منسوب نہ کریں پس بلا شبہ اس سورۃ میں مخفی طور پر میرا ذکر ہے اور ایک لطیف پیرایہ میں میری نسبت یہ ایک پیشگوئی ہے اور دعا کے رنگ میں مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ایسا زمانہ تم پر بھی آئے گا اور تم بھی حیلہ جوئی سے مسیح موعود کو لعنتی ٹھہراؤ گے کیونکہ یہ بھی حدیث ہے کہ اگر یہودی سوسمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو مسلمان بھی داخل ہونگے یہ عجیب خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ قرآن شریف کہ پہلی سورۃ میں ہی جس کو پنج وقت مسلمان پڑھتے ہیں میرے آنے کی نسبت پیشگوئی کر دی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - (تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 110-111 حاشیہ) وَقَدْ سَمَّى اللَّهُ تِلْكَ الْيَهُودَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَحَذَّرَكُمْ فِي أُمِّ الْكِتَابِ أَنْ تَكُونُوا كَمِثْلِهِمْ وَذَكَّرَكُمْ أَنَّهُمْ أَهْلِكُوا بِالطَّاعُونِ فَمَا لَكُمْ تَنْسَوْنَ وَصَايَا اللَّهِ وَلَا تَتَّقُونَ رَبَّكُمْ وَلَا تَحْذَرُون - وَلَا تُفَكَّرُوْنَ فِي قَوْلِ اللَّهِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يَقُلْ غَيْرِ الْيَهُودِ فَإِنَّهُ أَوْسَى فِي هَذِهِ إِلى عَذَابِ أَصَابَهُمْ وَإِلى عَذَابِ يُصِيبُكُمْ إِن لَّمْ تَنْتَهُوا فَهَلْ أَنتُمْ مُنْتَهُونَ وَإِنَّهُ نَبَأٌ عَظِيمٌ وَقَدْ ظَهَرَتْ آثَارُهُ وَإِنَّ فِي هَذَا لَآيَةٌ لِقَوْمٍ يُفَكِّرُوْنَ۔خدا نے ان یہودیوں کا نام مغضوب علیہم رکھا اور سورۃ فاتحہ میں تم کو اس بات سے ڈرایا کہ تم اُن جیسے ہو جاؤ اور تم کو یاد دلایا کہ وہ طاعون سے ہلاک کئے گئے۔تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا کے حکموں کو بھول گئے اور اُس سے نہیں ڈرتے خدا تعالیٰ کی کلام میں غور نہیں کرتے کہ غیر المغضوب فرمایا غیر الیہود نہیں فرمایا کیونکہ اس میں اشارہ اس عذاب کی طرف ہے جو ان کو پہنچا اور جو تمہیں پہنچے گا اگر تم باز نہ آئے پس کیا ممکن ہے کہ تم بچے رہو اور یہ بڑی اطلاع ہے اور اس کے نشان ظاہر ہو گئے اور اس میں ان کے لئے نشان ہے جو فکر کرتے ہیں۔خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحه 147-148)