حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 173
173 نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے۔اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔۔۔۔۔اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔اور کھلے طور پر امور غیبیہ پرمشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لیے فرمایا گیا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران: 111) اور جن کے لیے یہ دعا سکھائی گئی که اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کونہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا ہے۔اس کا سیکھلا نا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔ی تعلیم دے کر کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تمام بچے طالبوں کو خوش خبری دی کہ وہ اپنے رسول مقبول کی تبعیت سے اُس علم ظاہری اور باطنی تک پہنچ سکتے ہیں کہ جو بالا صالت خدا کے نبیوں کو دیا گیا انہیں معنوں کر کے تو علماء وارث الانبیاء کہلاتے ہیں اور اگر باطنی علم کا ورثہ اُن کو نہیں مل سکتا تو پھر وہ وارث کیوں کر اور کیسے ہوئے۔(براہین احمدیہ -رخ جلد 1 صفحہ 256 حاشیہ نمبر 1) حضرت اقدس کی بعثت بطور بروز آنحضرت ﷺ ہے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (رسالہ الوصیت۔رخ جلد 20 صفحہ 312311) نیکوں اور بدوں کے بروز ہوتے ہیں نیکوں کے بروز میں جو موعود ہے وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِہم سے نیکوں کا بروز اور ضالین سے عیسائیوں کا بروز اور مغضوب سے یہودیوں کا بروز مراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یا بد گزرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں خدا تعالیٰ ان اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا ان کے رنگ میں اور آجاتے ہیں جب یہ امر ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ابرار اور اخیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہیں گے۔اور یہ سلسلہ قیامت تک چلا جاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہو جاوے گا تو دنیا کا بھی خاتمہ ہے لیکن وہ موعود جس کے سپر و عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کا وہ بروز ہے یعنی محمد ﷺ وہ بھی ایک ہی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 460)