حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 156
156 ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کرینگے کہ یہ شخص منقطع النسل رہ کر نابود ہو جائے۔تا نادانوں کی نظر میں یہ بھی ایک نشان ہو۔لہذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں خبر دے دی کہ يــنـقـطع اباوك و يبدء مسنگ یعنی تیرے بزرگوں کی پہلی نسلیں منقطع ہو جائیں گی۔اور ان کے ذکر کا نام ونشان نہ رہے گا۔اور خدا تجھ سے ایک نئی بنیاد ڈالے گا۔اسی بنیاد کی مانند جوابرہیم سے ڈالی گئی اسی مناسبت سے خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام ابراہیم رکھا۔جیسا کہ فرمایا سلام علی ابراهیم صافيناه ونجيناه من الغم و اتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔قل رب لا تذرني فردا وانت خير الوارثین۔یعنی سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر ) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دیدی اور تم جو پیروی کرتے ہو۔تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں میں اپنی جگہ بناؤ۔یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔اور پھر فرمایا کہ اے میرے خدا! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو بہتر وارث ہے۔اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ خدا اکیلا نہیں چھوڑے گا۔اور ابراہیم کی طرح کثرت نسل کرے گا اور بہتیرے اس نسل سے برکت پائیں گے۔اور یہ جوفرمایا کہ و اتخذوا من مقام ابراہیم مصلی یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ۔اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔اور جیسا کہ آیت و مبشرا بر سول یانی من بعدی اسمه احمد (الصف:7) میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا۔گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہوگا جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا۔اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا۔ایسا ہی آیت واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (البقرة:126 ) اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائیگا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا۔( اربعین۔رخ جلد 17 صفحہ 420-421) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ آیت کے لفظی معنی انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے جس کو اس سورۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔یا اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام ہوا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 235) معانی ءِ ہدایت أَمَّا الْهِدَايَةُ الَّتِى قَدْ أُمِرُنَا لِطَلَبِهَا فِى الْفَاتِحَةِ فَهُوَ اقْتِدَاءُ مَحَامِدِ ذَاتِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ الْاَرْبَعَةِ وَإلى هذَا يُشِيرُ اللَّامُ الَّذِى مَوْجُودٌ فِي اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ وَيَعْرِفُهُ مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ الْفَهْمَ السَّلِيمَ وَلَا شَكٌّ أَنَّ هذِهِ الصِّفَاتِ أُمَّهَاتُ الصِّفَاتِ وَهِيَ كَافِيَةٌ لِتَطْهِيرِ النَّاسِ مِنَ الْهَنَاتِ وَأَنْوَاعِ السَّيِّاتِ فَلَا يُؤْمِنُ بِهَا عَبْدٌ إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَّأْ خُذَ مِنْ كُلِّ صِفَةٍ حَظَّهُ وَيَتَخَلَّقَ بِأَخْلَاقِ رَبِّ الْكَائِنَاتِ