حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 157
157 ترجمہ : جس ہدایت کے طلب کرنے کا ہمیں سورۃ فاتحہ میں حکم دیا گیا ہے وہ ذات باری کی خوبیوں اور اس کی چاروں (مذکورہ صفات کی پیروی کرتا ہے اور اسی کی طرف وہ الف لام اشارہ کر رہا ہے جو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں موجود ہے۔اس بات کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم عطا فرمائی ہو اور کچھ شک نہیں کہ یہ چاروں صفات ( باقی تمام ) صفات کے لئے بطور اصل ہیں اور یہ لوگوں کو قابل نفرت باتوں اور قسم قسم کی برائیوں سے پاک کرنے کے لئے کافی ہیں۔پس کوئی بندہ اس وقت تک ان پر ایمان نہیں لاتا جب تک کہ وہ ان میں سے ہر صفت سے اپنا حصہ نہ لے لے اور پروردگار عالم کے اخلاق کو اختیار نہ کرلے۔(کرامات الصادقین۔رخ جلد 7 صفحہ 145) تفسیری معنی ہدایت أَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - فَمَعْنَاهُ اَرِنَا النَّهْجَ الْقَوِيْمَ وَثَبِّتُنَا عَلَى طَرِيقٍ يُوصِلُ إِلَى حَضْرَتِكَ وَيُنَجِّى مِنْ عُقُوبَتِكَ ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ لِتَحْصِيلِ الْهَدَايَةِ طُرُقًا عِنْدَ الصُّوْفِيَّة- مُسْتَخْرَجَةٌ مِّنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ أَحَدُهَا طَلَبُ الْمَعْرِفَةِ بِالدَّلِيلَ وَالْحُجَّةِ وَالثَّانِي تَصْفِيَةُ الْبَاطِنِ بِأَنْوَاعِ الرِّيَاضَةِ وَالثَّالِثُ الْانْقِطَاعُ إِلَى اللَّهِ وَصَفَاءُ الْمَحَبَّةِ وَطَلَبُ الْمَدَدِ مِنَ الْحَضْرَةِ بِالْمُوَافَقَةِ التَّامَّةِ وَبِنَفْيِ التَّفْرِقَةِ وَبِالْتَوْبَةِ إِلَى اللهِ وَالْابْتِهَالِ وَالدُّعَاءِ وَعَقْدِ الْهِمَّةِ ثُمَّ لَمَّا كَانَ طَرِيقُ طَلَبِ الْهِدَيَةِ وَالتَّصْفِيَةِ لَا يَكْفِى لِلْوُصُولِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُّلِ الْائِمَّةِ وَالْمَهْدِيِّينَ مِنَ الْأُمَّةِ مَا رَضِيَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ عَلى هَذَا الْقَدَرِ مِنْ تَعْلِيمِ الدُّعَاءِ بَلْ حَتَّ بِقَوْلِهِ صِرَاطَ الَّذِينَ عَلَى تَحَسُّسِ الْمُرْشِدِينَ وَالْهَادِينَ مِنْ أَهْلِ الْإِجْتِهَادِ وَالْإِصْطِفَاءِ مِنَ الْمُرْسَلِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ كلام الى اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنی یہ ہیں کہ اے ہمارے پروردگار) ہمیں سیدھا رستہ دکھا اور ہمیں اس راستہ پر قائم رکھ جو تیری جناب تک پہنچا تا ہو اور تیری سزا سے بچاتا ہو۔پھر واضح ہو کہ صوفیوں کے نزدیک ہدایت کے حصول کے کئی طریق ہیں جو کتاب ( الہی ) اور سنت (رسول) سے اخذ کئے گئے ہیں۔ان میں سے پہلا طریق دلیل اور برہان کے ساتھ خدا کی معرفت طلب کرنا ہے۔دوسرا طریق مختلف قسم کی ریاضتوں کے ذریعہ اپنے باطن کو صاف کرنا ہے اور تیسرا ( طریق) ہے سب سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرنا اور اس سے اپنی محبت کو خالص کرنا اور اس کی صفات سے پوری موافقت پیدا کر کے اور خدا سے علحدگی ترک کر کے تو بہ زاری ،دُعاء اور عقدِ ہمت کے ساتھ بارگاہ ایزدی سے مدد طلب کرنا ہے۔پھر چونکہ تلاش ہدایت اور تصفیہ نفس کا طریق ائمہ اور امت کے ہدایت یافتہ لوگوں کے وسیلہ کے بغیر وصول الی اللہ کے لئے کافی نہیں اس لئے خدا تعالیٰ محض اس قدر ( یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم تک) دعاء سکھانے پر راضی نہ ہوا۔بلکہ اس نے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کہہ کر ان مُرشدوں اور ہادیوں کی تلاش کی ترغیب دلائی جو صاف باطن اور اجتہاد کرنے والے لوگوں میں سے ہادی اور راہنما ہیں یعنی رسولوں اور نبیوں کی۔اعجاز مسیح رخ جلد 18 صفحہ 171-172)