حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 155
155 تو حید تین قسم کی ہے ایک تو حید علمی کہ جو صحیح عقائد سے حاصل ہوتی ہے۔دوسری توحید عملی کہ جو قومی اخلاقی کو خدا کے راستہ میں کرنے سے یعنی فنافی اخلاق اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔تیسری تو حید حالی جو اپنے ہی نفس کا حال اچھا بنانے سے حاصل ہوتی ہے یعنی نفس کو کمال تزکیہ کے مرتبہ تک پہنچانا اور غیر اللہ سے صحن قلب کو بالکل خالی کرنا۔اور نابود اور بے نمود ہو جانا یہ تو حید بوجہ کامل تب میسر آتی ہے کہ جب جذ بہ الہی انسان کو پکڑے اور بالکل اپنے نفس سے نابود کر دے اور بجر فضل الہی کے نہ یہ علم سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ عمل ہے۔اسی کے لئے عابدین مخلصین کی زبان پر نعرہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔( الحکم 24 ستمبر 1905 ء صفحہ 4 کالم نمبر 3 ) ( تفسیر حضرت طبع اول سورۃ فاتحہ جلد 1 صفحہ 209) کالم نمبر 3 نمبر 33 جلد 9 حضرت اقدس کی پرانی اور اچھوتی تحریریں ) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں حضرت اقدس کا ذکر ثُمَّ اعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ حَمِدَ ذَاتَهُ أَوَّلًا فِي قَوْلِهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَا لَمِيْنَ ثُمَّ حَتَّ النَّاسَ عَلَى الْعِبَادَةِ بِقَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - فَفِي هَذِهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الْعَابِدَ فِي الْحَقِيقَةِ هُوَ الَّذِي يَحْمَدُهُ حَقَّ الْمَحْمَدَةِ - فَحَاصِلُ هَذَا الدُّعَاءِ وَالْمَسْئَلَةِ - أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ أَحْمَدَ كُلَّ مَنْ تَصَدَى لِلْعِبَادَةِ - وَعَلَى هَذَا كَانَ مِنَ الْوَاجِبَاتِ أَن يَكُونَ أَحْمَدُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى قَدَمِ أَحْمَدَ الْأَوَّلِ الَّذِي هُوَ سَیّدُ الْكَائِنَاتِ لِيُفْهَمَ أَنَّ الدُّعَاءَ سُتُجِيْبَ مِنْ حَضْرَةِ مُسْتَجِيْبِ الدَّعْوَاتِ وَلِيَكُونَ ظُهُورُهُ لِلْإِسْتِجَابَةِ كَالْعَلَا مَاتٍ فَهَذَا هُوَ الْمَسِيحُ الَّذِي كَانَ وَعْدَ ظُهُورِهِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ مَكْتُوبِ فِي الْفَاتِحَةِ وَفِي الْقُرْآنِ نیز سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے الفاظ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین میں اپنی حمد بیان فرمائی۔پھر اپنے کلام إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین میں لوگوں کو عبادت کی ترغیب دی۔پس اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت عبادت گزار وہی ہے۔جو خدا تعالیٰ کی حمد اس طور پر کرے جو حمد کے کرنے کا حق ہے۔پس اس دعا اور درخواست کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو احمد بنا دیتا ہے جو (اس کی) عبادت میں لگا رہے۔اس بناء پر ضروری تھا کہ اس امت کے آخر میں بھی کوئی احمد ظاہر ہو اس پہلے احمد کے نقش قدم پر جو سرور کائنات ( حضرت محمد ﷺے ہیں تا معلوم ہو جائے کہ دعاؤں کو قبول فرمانے والی بارگاہ سے اس دعاء فاتحہ کو قبولیت کا شرف حاصل ہے اور تا کہ اس ( احمد ) کا ظہور قبولیت دعا کے لیے بطور نشانات کے ہو۔یہی وہ صیح ہے جس کا آخری زمانہ میں ظہور کا وعدہ سورۃ فاتحہ میں بھی قرآن کریم میں بھی لکھا ہوا ہے۔(اعجاز مسیح - رخ جلد 18 صفحہ 167-168)