حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 152 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 152

152 ( ترجمہ از مرتب ) اور آنحضرت ﷺ کی پہلی بعثت اور پچھلی بعثت میں بلکہ ازل سے ابد الا باد تک سب تعریف اسی کے لئے ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا نام احمد رکھا۔اور اسی طرح مسیح موعود کا بھی یہی نام رکھا تا اس نے جو قصد کیا تھا اس کی طرف اشارہ فرمائے۔اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے ابتداء میں الحمد لکھا ہے پھر اس سورۃ کے آخر میں بھی الحمد کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اس کے آخر میں الضالین کا لفظ ہے اور وہ نصاری ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی حمد کرنے سے منہ موڑ لیا اور اس کا حق مخلوق کے ایک فرد کو دے دیا کیونکہ گمراہی کی حقیقت یہ ہے کہ اس قابل تعریف ہستی کو جو حمد و ثناء کی مستحق ہے چھوڑ دیا جائے جیسا کہ نصاری نے کیا ہے۔انہوں نے اپنے پاس سے ایک اور قابل تعریف معبود بنالیا ہے اور انہوں نے اس کی تعریف میں بڑا مبالغہ کیا ہے۔انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی اور زندگی کے چشمہ سے دور نکل گئے اور اسی طرح ہلاک ہو گئے جس طرح ایک راہ گم کردہ شخص بیابان میں ہلاک ہو جاتا ہے اور یہود تو اپنی ابتداء ہی میں ہلاک ہو گئے تھے اور خدائے قہار کے غضب کے مورد بن گئے تھے۔نصاری چند قدم چلے پھر گمراہ ہو گئے اور روحانی پانی کھو دیا اور آخر کا رلا چار ہو کر بیابانوں میں مر گئے۔پس خلاصہ بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا کئے ایک اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور ایک آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظا ومعنا تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں) کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لئے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو احمد آسمان سے اتارے تا وہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لئے دود یواروں کی طرح ہو جائیں۔