حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xvii
xiv یہ قرآن کریم کے حقائق اور عرفان کی دوسری ضرورت تھی جس کو حضرت اقدس نے بہت دلفریب الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اس مفسدہ عظیم کی اصلاح کے لئے ایک فرد کو عرفان قرآن عطا کیا گیا۔اور وہ کون ہے؟ یہی جو بول رہا ہے۔اندرونی اور بیرونی مفاسد اور حملوں کی وضاحت اور نشاندہی کے تعلق میں مزید دو بہت پیارے اور مدلل فرامین حضرت اقدس پیش کرنا چاہتا ہوں۔یہ فرمودات ان دونوں مفاسد زمانہ کو یکجا طور پر بیان بھی کرتے ہیں اور ان کے اصلاح کے لئے حضرت اقدس کو جو منصب فہم قرآن کی نسبت سے عطا ہے اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔فرماتے ہیں۔حضرت عیسی کے مبعوث کرنے سے جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے۔خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ موسوی نبوت کی صحت اور اس سلسلہ کی حقانیت پر تازہ شہادت قائم کرے۔اور نئی تائیدات اور آسمانی گواہوں سے موسوی عمارت کی دوبارہ مرمت کر دیوے۔اسی طرح جو اس امت کے لئے مسیح موعود بھی چودھویں صدی کے سر پر بھیجا گیا اس کی بعثت سے بھی یہی مطلب ہوا کہ جو یورپ کے فلسفہ اور یورپ کی دجالیت نے اسلام پر طرح طرح کے حملے کئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور پیشگوئیوں اور مجزات سے انکار اور تعلیم قرآنی پر اعتراض اور برکات اور انوار اسلام کو سخت استہزاء کی نظر سے دیکھا ہے اور ان تمام حملوں کو نیست و نابود کرے اور نبوت محمدیہ علی صاحبہا الف الف سلام کو تازہ تصدیق اور تائید سے حق کے طالبوں پر چمکا دے۔“ ایام الصلح - ر- خ جلد 14 صفحہ 307 308) مزید فرماتے ہیں۔میں اس وقت محض اللہ اس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کر کے دین متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لئے بھیجا ہے تا کہ میں اس پر آشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتیں ظاہر کروں اور ان تمام دشمنوں کو جو اسلام پر حملہ کر رہے ہیں اُن نوروں اور برکات اور خوارق اور علوم لدنیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں۔“ بركات الدعا۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 34) گزشتہ میں بیان کردہ فرمودات حضرت اقدس سے جہاں یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ آپ پر عرفان قرآن نازل ہونے کے محرکات اور ضرورت زمانہ کیا تھی۔وہاں پر یہ بھی بیان ہو گیا ہے کہ ان دینی اور روحانی خدمات کو سرانجام دینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کن روحانی مناصب عالیہ سے سرفراز کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کے حکم اور منشاء کے مطابق حضرت اقدس نے اپنی خدمات کو دو مناصب عالیہ کے تحت قرار دیا ہے اور ان مناصب کے حامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔