حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 135
135 اس شخص کے کمال کا معیار ہیں جو کمال کا طالب ہے اور اخلاق الہیہ کا رنگ اختیار کرتا ہے۔پھر ان دونوں صفات میں سے کامل حصہ صرف ہمارے نبی سلسلہ نبوت کے خاتم ﷺ کو ہی دیا گیا ہے کیونکہ آپ کو پروردگار دو عالم کے فضل سے ان دونوں صفات کی طرح دو نام دیئے گئے ہیں، جن میں سے پہلا محمد ہے اور دوسرا احمد ، پس اسم محمد نے صفت الرحمان کی چادر پہنی اور جلال اور محبوبیت کے لباس میں جلوہ گر ہوا اور اپنی نیکی اور احسان کی بناء پر بار بار تعریف بھی کیا گیا۔اور اسم احمد نے خدا تعالیٰ کے فضل سے جو مومنوں کی مدد اور نصرت کا متوتی ہے رحیمیت بحبیت اور جمال کے لباس میں تجلی فرمائی۔پس ہمارے نبی ﷺ کے دونوں نام محمد اور احمد ) ہمارے رب حسن کی دونوں صفتوں ( الرحمان الرحیم ) کے مقابلہ میں منعکس صورتوں کی طرح ہیں جن کو دو مقابل کے آئینے ظاہر کرتے ہیں۔(اعجاز استح۔رخ جلد 18 صفحہ 101 تا103) ثُمَّ أُعْطِيَ مِنْهُمَا نَصِيبٌ كَامِلٌ لِنَتِينَا اِمَامِ النَّهْجِ الْقَوِيْم فَجُعِلَ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ ظِلَّ الرَّحْمَانِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ ظِلَّ الرَّحِيمِ وَالسِّرُّ فِيْهِ أَنَّ الْإِنْسَانَ الْكَامِلَ لَا يَكُونُ كَامِلًا إِلَّا بَعْدَ التَّخَلُقِ بِالْأَخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ وَ صِفَاتِ الرُّبُوبِيَّةِ - وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ أَمْرَ الصِّفَاتِ كُلِّهَا تَقُولُ إِلَى الرَّحْمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ سَمَّيْنَا هُمَا بِالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ - وَعَلِمْتَ أَنَّ الرَّحْمَانِيَّةَ رَحْمَةٌ مُطْلَقَةٌ عَلَى سَيْدِ الْاِمْتِنَانِ وَيَرِدُ فَيْضَانُهَا عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَّ كَافِرِ بَلْ كُلِّ نَوْعِ الْحَيَوَانِ وَأَمَّا الرَّحِيمِيَّةُ مَةٌ وُجُوبِيَّةٌ مِّنَ اللَّهِ أَحْسَنِ الْخَالِقِينَ - وَجَبَتْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ خَاصَّةٌ مِّنْ دُوْنِ حَيَوَانَاتٍ أُخْرَى وَالْكَافِرِيْنَ فَلَزِمَ أَنْ يَكُونَ الْإِنْسَانُ الْكَامِلُ أَعْنِي مُحَمَّدًا مَّظْهَرَ هَاتَيْنِ الصِّفَتَيْنِ فَلِذَالِكَ سُمِّيَ مُحَمَّدًا وَأَحْمَدَ مِنْ رَّبِّ الْكَوْنَيْنِ وَقَالَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ لَقَدْ جَاءَ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وُفٌ رَّحِيم“۔(تو به 128) ترجمہ۔پھر ان دونوں صفات سے ہمارے نبی ﷺ کو جو صراط مستقیم کے امام ہیں کامل حصہ عطا کیا گیا۔پس آپ کا نام محمد بطور رحمان کے کل کے اور احمد نام بطور رحیم کے کل کے رکھا گیا۔اور اس میں یہ راز ہے کہ کامل انسان الہی اخلاق اور ربانی صفات کے رنگ میں رنگین ہونے کے بعد ہی کامل ہوتا ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ تمام صفات کا مال یہی دورحمتیں ہیں۔جن کا نام ہم نے رحمانیت اور رحیمیت رکھا ہے۔پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ رحمانیت ایک عام رحمت ہے جو بطور احسان ہوتی ہے اور اس کا فیضان ہر مومن، کافر بلکہ ہر نوع حیوان کو پہنچتا ہے لیکن رحیمیت خدائے احسن الخالقین کی طرف سے ایک رحمت ہے، جو جانوروں اور کافروں کے علاوہ بالضرور صرف مومنوں سے مختص ہے۔پس لازم ہوا کہ انسان کامل یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ان دونوں صفات کے مظہر ہوتے اسی لئے پروردگار عالم کی طرف سے آپ کا نام محمد اور احمد رکھا گیا۔اللہ تعالیٰ آپ کی شان میں فرماتا ہے: رحمة و لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ (توبه: 128) ترجمہ۔(اے مومنو!) تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر آیا ہے تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے اور وہ تمہارے لئے خیر کا بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ بہت محبت کرنے والا اور کرم کرنے والا ہے۔(اعجاز مسیح -ر- خ جلد 18 صفحہ 117)