حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 134 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 134

134 صفت رحیمیت صرف مومنوں کے ساتھ مخصوص ہے قالَ اللهُ تَعَالَى " وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ( نياء (108) وَلَا يَسْتَقِيمُ هَذَا الْمَعْنى إِلَّا فِي الرَّحْمَانِيَّةِ فَإِنَّ الرَّحِيمِيَّةَ يَخْتَصُّ بِعَالَمِ وَاحِدٍ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ - اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اے نبی۔ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کا رحمۃ للعالمین ہونا صفت رحمانیت کے لحاظ سے ہی درست ہو سکتا ہے۔کیونکہ رحیمیت تو صرف مومنوں کی دنیا کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔اعجاز امسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 118 حاشیه ) صلى الله رسول اکرم صفات رحمن ورحیم کے مظہر اول ہیں وَلَمَّا جَاءَ زَمَنُ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَسَيّدِنَا مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ أَرَادَهُوَ سُبْحَانَهُ أَنْ يُجْمَعَ هَاتَيْنِ الصِّفَتَيْنِ فِى نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَجَمَعَهُمَا فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ أَلْفُ أَلْفِ صلوة وتَحِيَّةٍ فَلِذَالِكَ ذَكَرَ تَخْصِيصًا صِفَةَ الْمَحْبُوبِيَّةِ وَالْمُحِمِّيَّةِ عَلَى رَأْسِ هَذِهِ السُّوْرَةِ لِيَكُونَ إِشَارَةٌ إِلى هَذِهِ الْإِرَادَةِ وَسَمَّى نَبِيَّنَا مُحَمَّدًا وَأَحْمَدَ كَمَا سَمَّى نَفْسَهُ الرَّحْمَانَ وَالرَّحِيمَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ- فَهَذِهِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّهُ لَا جَامِعَ لَهُمَا عَلَى الطَّرِيقَةِ الظَّلِّيَّةِ إِلَّا وُجُودُ سَيّدِنَا خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهَا تَيْنِ الصِّفَتَيْنِ أَكْبَرُ الصَّفَاتِ مِنْ صِفَاتِ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ بَلْ هُمَا لُبُ اللُّبَابِ وَحَقِيقَةُ الْحَقَائِقِ لِجَمِيعِ أَسْمَاءِ وَ الصِّفَا تِيَّةِ وَهُمَا مِعْيَارُ كَمَالِ كُلِّ مَنِ اسْتَكْمَلَ وَتَخَلَّقَ بِالْأَخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ - وَمَا أُعْطِيَ نَصِيبًا كَا مِلًا مِّنْهُمَا إِلَّا نَبِيَّنَا خَاتَمُ سِلْسِلَةِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ أَعْطِىَ أَسْمَيْنِ كَمِثْلِ هَا تَيْنِ الصِّفَتَيْنِ أَوْ لُهُمَا مُحَمَّدٌ وَّ الثَّانِي أَحْمَدُ مِنْ فَضْلِ رَبِّ الْكَوْنَيْنِ أَمَّا مُحَمَّدٌ فَقَدِ ارْتَدَى رِدَاءَ صِفَةِ الرَّحْمَانِ وَتَجَلَّى فِي حُلَلِ الْجَلَالِ وَالْمَحْبُوبِيَّةِ وحُمِدَ لِبَرٌ مِّنْهُ وَالْإِحْسَانِ وَأَمَّا أَحْمَدُ فَتَجَلَّى فِي حُلَّةِ الرَّحِيمِيَّةِ وَالْمُحِيَّةِ وَالْجَمَالِيَّةِ فَضْلاً مِّنَ اللهِ الَّذِي يَتَوَلَّى الْمُؤْمِنِيْنَ بِالْعَوْنِ وَالنُّصْرَةِ - فَصَا رَاسْمَا نَبِيِّنَا بِحِذَاءَ صِفَتَى رَبَّنَا الْمَنَانِ كَصُوَرٍ مُنْعَكِسَةٍ تُظْهِرُهَا مِرْأَتَانِ مُتَقَابِلَتَانِ ترجمہ: اور جب ہمارے آقا سید المرسلین و خاتم النبین محمد علی کا زمانہ آیات اللہ تعالی کی پاک ذات نے ارادہ فرمایا کہ ان دونوں صفات کو ایک ہی شخصیت میں جمع کر دے چنانچہ اس نے آنحضرت کی ذات میں ( آپ پر ہزاروں ہزار درود اور سلام ہو) یہ دونوں صفات جمع کر دیں یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے شروع میں صفت محبوبیت اور صفت محبیت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے تا اس سے خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کی طرف اشارہ ہو اور اس نے ہمارے نبی ﷺ کا نام محمد اور احمد رکھا۔جیسا کہ اس نے اس آیت میں اپنا نام الرحمن اور الرحیم رکھا۔پس یہ بات اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان دونوں صفات کا ہمارے آقا فخر دو عالم ﷺ کے علاوہ اور کوئی جامع وجود نہیں۔اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ دونوں صفات خدا تعالیٰ کی صفات میں سے سب سے بڑی صفات ہیں۔بلکہ یہ اس کے تمام صفاتی ناموں کے خلاصوں کا خلاصہ اور حقیقوں کی نچوڑ ہیں۔یہ ہر