حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 129
129 یہود تو اپنی ابتدا میں ہی ہلاک ہو گئے تھے۔اور خدائے قہار کے غضب کے مورد بن گئے تھے۔نصاری چند قدم چلے پھر گمراہ ہو گئے اور روحانی پانی کھو دیا۔اور آخر کار لا چار ہو کر بیابانوں میں ہی مر گئے۔پس خلاصہ بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا کئے (ایک) اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور (ایک) آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل عرفان کے لیے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظاً ومعنا تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں) کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لیے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو احمد آسمان سے اتارے تا وہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لیے دو دیواروں کی طرح ہو جائیں۔اعجاز ا یح۔رخ جلد 18 صفحہ 195 تا 198) ترجمہ اور معانی رب العالمین۔جنگ مقدس - رخ جلد 6 صفحہ 101) (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔۔۔۔یعنی تمام محمد اللہ کے لئے ثابت ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے یعنی اُس کی ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے۔(2) ربّ۔لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتا بیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں رب کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔(1) مالک۔(2) سید۔(3) مدیر۔(4) مربی۔(5 ) قیم۔( 6 ) منعم۔(7) تم۔چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں منجملہ اُن کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اُس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہوا اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اُس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اُس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا۔کیونکہ قبضہ تامہ اور تصرف تام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لیے مسلم نہیں۔مین الرحمن - ر خ جلد 9 صفحہ 152 153 حاشیہ) (3) رَبِّ العلمین کیا جامع کلمہ ہے۔اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی۔کشتی نوح - ر- خ جلد 19 صفحه 42 (4) رب العالمین اس لیے بھی فرمایا تا کہ یہ ثابت کرے کہ وہ بسائط اور عالم امر کا بھی رب ہے کیونکہ بسیط چیزیں امر سے ہیں اور مرکب خلق سے۔(5) قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعال الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ( ملفوظات جلد اول صفحہ 389) ہے مثلاً کہا گیا ہے، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔۔۔۔(حقیقتہ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 146