حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 128 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 128

128 إلى مَا تَعَمَّدَ - وَإِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَمْدَ عَلَى رَأسِ الْفَاتِحَةِ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَمْدِ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَإِنَّ اخِرَهَالَفُظُ الصَّالِينَ وَهُمُ النَّصَارَى الَّذِينَ أَعْرَضُوا عَنْ حَمُدِ اللَّهِ وَأَعْطَوا حَقَّهُ لَاحَدٍ مِّنَ الْمَخْلُوقِيْنَ - فَإِنَّ حَقِيْقَةَ الضَّلَالَةِ هِيَ تَرُكُ الْمَحْمُودِ الَّذِي يَسْتَحِقُّ الْحَمْدَ وَالثَّنَاءَ كَمَا فَعَلَ النَّصَارَى وَ نَحَتُوُا مِنْ عِنْدِ هِمُ مَحْمُودًا أَخَرَ وَبَالَغُوا فِي الْإِ طُرَاءِ وَاتَّبَعُوا الَّا هُوَاءَ - وَبَعَدُوا مِنْ عَيْنِ الْحَيَاةِ وَهَلَكُوا كَمَا يَهْلِكُ الضَّالُ فِي الْمَوْ مَاةِ - وَإِنَّ الْيَهُودَ هَلَكُوا فِى أَوَّلِ أَمْرِ هِمُ وَبَاءُ وَابِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ القَهَّارِ وَالنَّصَارَى سَلَكُوا قَلِيلًا ثُمَّ ضَلُّوا وَفَقَدُ واالْمَاءَ فَمَا تُوْا فِى فَلَاةٍ مِّنَ الْاضْطِرَارٍ - فَحَاصِلُ هَذَا الْبَيَانِ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَحْمَدَ يُنِ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ وَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَأَشَارَ إِلَيْهِمَا بِتَكْرَارِ لَفْظِ الْحَمْدِ فِي أَوَّل الْفَاتِحَةِ وَفِي آخِرِهَا لَا هُلِ الْعِرْفَانِ وَفَعَلَ كَذَالِكَ لِيَرُدَّ عَلَى النَّصْرَانِيِّينَ - وَأَنْزَلَ أَحْمَدَيْنِ مِنَ السَّمَاءِ لِيَكُونَا كَالْجِدَرَيْنِ لِحِمَايَةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ - ( ترجمه از مرتب ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو شکر اور ثناء سے نہیں بلکہ حد سے شروع کیا ہے کیونکہ حمد کا لفظ ان دونوں سے زیادہ مکمل اور جامع ہے اور ان دونوں پر پورے طور پر محیط ہے۔پھر لفظ الحمد مخلوق کے پرستاروں اور بتوں کے پوجاریوں کی تردید ہے۔کیونکہ وہ اپنے باطل معبودوں کی حمد کرتے ہیں۔اور خدائے رحمان کی صفات ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔الحمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو مجھے میری صفات کے ذریعہ پہنچانو۔اور میرے کمالات کی بناء پر مجھ پر ایمان لاؤ۔اور آسمانوں اور زمینوں پر غور کرو۔کیا تم میرے جیسا کسی اور کو رب العالمین اور ارحم الراحمین اور مالک یوم الدین پاتے ہو۔مزید براں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تمہارا معبود ایسا معبود ہے جس کی ذات ہرقسم کی حمد کی جامع ہے۔اور اپنی تمام خوبیوں اور صفتوں میں منفر د اور یگانہ ہے۔اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان ہر نقص اور ہر تغیر اور ہر عیب کے لاحق ہونے سے پاک ہے جومخلوق میں پایا جاتا ہے بلکہ وہ اپنی ذات میں قابل تعریف ہے۔اور وہ حد بندی سے بالا ہے اور آنحضرت ﷺ کی پہلی بعثت اور پچھلی بعثت بلکہ ازل سے ابدالاباد تک سب تعریف اسی کے لیے ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا نام احمد رکھا اور اسی طرح مسیح موعود کا بھی یہی نام رکھا۔تا اس نے جو قصد کیا تھا اس کی طرف اشارہ فرمائے۔اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے ابتداء میں الحمد لکھا ہے پھر اس سورۃ کے آخر میں بھی الحمد کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اس کے آخر میں الضالین کا لفظ ہے۔اور وہ نصاریٰ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی حمد کرنے سے منہ موڑ لیا۔اور اس کا حق مخلوق کے ایک فرد کو دے دیا۔کیونکہ گمراہی کی حقیقت یہ ہے کہ اس قابل تعریف ہستی کو جو حمد وثنا کی مستحق ہے چھوڑ دیا جائے جیسا کہ نصاریٰ نے کیا ہے۔انہوں نے اپنے پاس سے ایک اور قابل تعریف معبود بنا لیا اور انہوں نے اس کی تعریف میں بڑا مبالغہ کیا ہے۔انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی اور زندگی کے چشمہ سے دور نکل گئے اور اس طرح ہلاک ہو گئے جس طرح ایک راہ گم کردہ شخص بیابان میں ہلاک ہو جاتا ہے۔اور