حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 925
925 ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (النجم 10,9) اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخنی طور پر خدا وند قادر مطلق سے دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنى (النجم 10,9) یعنی وہ (حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کا ملہ قرب کی وجہ سے دوقو سوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدت قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس نا پیدا کنار دریا میں جا پڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرہ بشریت گم ہو گیا اور یہ بڑھنا نہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا۔اور ظلی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریریں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہرا دیں۔سرمه چشم آریہ۔رخ۔جلد 2 صفحہ 275-274 حاشیہ ) شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنے جفت کے ہیں۔اس لئے شفیع وہ ہو سکتا ہے جو دو مقامات کا مظہر اتم لاہوت اور ناسوت کا ہو۔لا ہوتی مقام کا مظہر کامل ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کا خدا کی طرف صعود ہو۔وہ خدا سے حاصل کرے۔اور ناسوتی مقام کے مظہر کا یہ مفہوم ہے کہ مخلوق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا سے حاصل کرے وہ مخلوق کو پہنچا دیا اور مظہر کامل ان مقامات کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے دَنَا فَتَدَلَّى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (النجم 10,9) ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 170 ) و لا ريب ان نبینا سمی محمدا لما اراد الله ان يجعله محبوبا في اعينه و اعين الصلحين و كذلك سماه احمد لما اراد سبحانه ان يجعله محب ذاته ومحب المومنين۔فهو محمد بشان و احمد بشان و اختص احد هذين الاسمين بزمان والاخر بزمان۔و قد اشار اليه سبحانه في قوله دنا فتدلى۔و في قاب قوسین او ادنی۔(اعجاز مسیح-ر-خ- جلد 18 صفحہ 109) ترجمه از مرتب:۔بلا شک ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا گیا تا کہ آپ کو ( اللہ تعالیٰ ) اپنی نظر میں اور لوگوں کی نظر میں محبوب ٹھہرائے۔اور اسی طرح آپ کا نام احمد رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا کہ آپ کو اپنی ذات اور مسلمان لوگوں کا محب قرار دے۔پس آپ کی دوسشا نہیں ہیں ایک شان کے لحاظ سے آپ محمد ہیں اور دوسری شان کے لحاظ سے آپ احمد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ایک نام کو ایک زمانہ سے اور دوسرے نام کو دوسرے زمانہ سے خاص کر دیا۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنی میں اشارہ کیا ہے۔