حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 912 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 912

912 بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نا مرا در ہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے جو اس طرح جھلکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خود بخود اس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرماتا ہے مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:3-4) اس جگہ رزق سے مراد صرف روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزت علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرہ بھر بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا مَنْ يُعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ (الزلزال:8) ہمارے ملک ہندستان میں نظام الدین صاحب اور قطب الدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزت کی جاتی ہے وہ اسی لئے ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کا سچا تعلق تھا اور اگر یہ نہ ہوتا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوں میں ہل چلاتے۔معمولی کام کرتے مگر خدا تعالیٰ کے بچے تعلق کی وجہ سے لوگ ان کی مٹی کی بھی عزت کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 220) ط جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما ذلِكَ وَ مَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِنْدَ رَبِّهِ ، وَ أُحِلَّتْ لَكُمُ الأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمُ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزور۔(الحج: 31) مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔بیچ پر ٹھہر جاو اور سچی گواہی دوجیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں۔جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔کچی گواہی دو اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔(ازالہ اوہام - رخ - جلد 3 صفحہ 550) تکبر ایسی بلا ہے کہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔یاد رکھو تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے کو شیطان بنادیتا ہے۔جب تک انسان اس راہ سے قطعا دور نہ ہو۔قبول حق و فیضان الوہیت ہرگز پا نہیں سکتا۔کیونکہ یہ تکبر اس کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔پس کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیئے۔علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر تکبر انہیں باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک انسان اپنے آپ کو ان گھمنڈوں سے پاک وصاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ اللہ جل شانہ کے نزدیک پسندیده و برگزیدہ نہیں ہو سکتا۔اور وہ معرفت الہی جو جذبات نفسانی کے موادر ڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ گھمنڈ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی یہی گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو آدم علیہ السلام سے بڑا سمجھا اور کہد یا اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِى مِنْ نَارٍ وَّ خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ (الاعراف:13) ( میں