حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 904
904 کوئی آدمی کسی کو متقی کیونکر یقین کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ اور فرماتا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى اور فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہی عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (المائدہ:8) ہے۔ہاں مامور من اللہ کے متقی ہونے اور نہ ہونے کے نشانات تین ہوتے ہیں نہ اوروں کے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 56) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اصل عبود بیت کا خضوع اور دل ہے اور عبودیت کی حالت کا ملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلو اور بلندی اور عجب نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تحمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے۔عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مورٌ مُعَبَّدٌ وَ طَرِيقٌ مُعَبَّدٌ جہاں راہ نہایت درست اور نرم اور سیدھا کیا جاتا ہے اس راہ کو طریق معبد کہتے ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے ان میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلیات کے گزر کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا اور اپنے تصرف سے وہ استقامت جو عبودیت کی شرط ہے ان میں پیدا کی۔پس وہ علمی حالت کے لحاظ سے مہدی ہیں اور عملی کیفیت کے لحاظ سے جو خدا کے عمل سے ان میں پیدا ہوئی عبد ہیں کیونکہ خدا نے ان کی روح پر اپنے ہاتھ سے وہ کام کیا ہے جو کوٹنے اور ہموار کرنے کے آلات سے اس سڑک پر کیا جاتا ہے جس کو صاف اور ہموار بنانا چاہتے ہیں اور چونکہ مہدی موعود کو بھی عبودیت کا مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے حاصل ہوا اس لئے مہدی موعود میں عبد کے لفظ کی کیفیت غلام کے لفظ سے ظاہر کی گئی یعنی اس کے نام کو غلام احمد کر کے پکارا گیا۔یہ غلام کا لفظ اس عبودیت کو ظاہر کرتا ہے جو ظلی طور پر مہدی موعود میں بھی ہونی چاہیئے۔فتدبر ایام اسح۔رخ - جلد 14 صفحہ 395-394 حاشیہ ) الصل