حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 902
902 خبر دار ہو یعنی یقینا سمجھ کہ جو لوگ اللہ ( جل شانہ) کے دوست ہیں۔یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیونکر نجات ہوگئی کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گذشتہ کے متعلق کوئی حزن واندوہ انہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ صبر دئیے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی خلاف ایمان وخلاف فرماں برداری جو باتیں ہیں ان سے بہت دور رہتے ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ 46 حاشیہ طبع اول) خدا تعالیٰ نے ان کو اپنا ولی کہا ہے حالانکہ وہ بے نیاز ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں اس لئے استثنا ایک شرط کے ساتھ ہے وَ لَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلّ (بنی اسرائیل : 112) یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ تھڑک کر کسی کو ولی نہیں بناتا بلکہ محض اپنے فضل اور عنایت سے اپنا مقرب بنا لیتا ہے اس کو کسی کی کوئی حاجت نہیں ہے اس ولایت اور قرب کا فائدہ بھی اسی کو پہنچتا ہے یادرکھو اللہ تعالیٰ کا احتبا اور اصطفا فطرتی جو ہر سے ہوتا ہے۔ممکن ہے گزشتہ زندگی میں وہ کوئی صغائر یا کہا ئر رکھتا ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اس کا سچا تعلق ہو جاوے تو وہ کل خطائیں بخش دیتا ہے اور پھر اس کو کبھی شرمندہ نہیں کرتا نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔یہ کس قدر احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ جب وہ ایک دفعہ در گذر کرتا اور عفوفرماتا ہے پھر اس کو کبھی ذکر ہی نہیں کرتا اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔پھر باوجود ایسے احسانوں اور فضلوں کے بھی اگر وہ منافقانہ زندگی بسر کرے تو پھر سخت بد قسمتی اور شامت ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 596) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ، لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔(يونس : 64-65) تیسری ان ( اللہ اور رسول کے تابع لوگوں ) کی یہ نشانی ہے کہ انہیں (بذریعہ مکالمہ الہیہ و رویائے صالحہ ) بشارتیں ملتی رہتی ہیں اس جہاں میں بھی اور دوسرے جہاں میں بھی خدائے تعالیٰ کا ان کی نسبت یہ عہد ہے جوٹل نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے یعنی مکالمہ الہیہ اور رویائے صالحہ سے خدائے تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطبات الہیہ سے مشرف ہوں (یہی قانون قدرت اللہ جل شانہ کا ہے ) ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ 46-47 حاشیہ ) چونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سفر کرنا ایک نہایت دقیق در دقیق راہ ہے اور اس کے ساتھ طرح طرح کے مصائب اور دکھ لگے ہوئے ہیں اور ممکن ہے انسان اس نادیدہ راہ میں بھول جاوے یا نا امیدی طاری ہو اور آگے قدم بڑھانا چھوڑ دے اس لئے خدا تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ اپنی طرف سے اس سفر میں ساتھ ساتھ اس کو تسلی دیتی رہے اور اس کی دل دہی کرتی رہے اور اس کی کمر ہمت کو باندھتی رہے اور اس کے شوق کو زیادہ کرے سو اس کی سنت اس راہ کے مسافروں کے ساتھ اس طرح پر واقع ہے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے کلام اور الہام سے ان کو تسلی دیتا اور ان پر ظاہر کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تب وہ قوت پا کر بڑے زور سے اس سفر کو طے کرتے ہیں چنانچہ اس بارے میں وہ فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر- خ - جلد 10 صفحہ 422)