حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 895
895 فرماتا ہے وہ حتمی ہوتا ہے اس سے نقصان نہیں ہوتا مگر یہ بات ذرا مشکل ہے کامل ایمان کو چاہتی ہے اور یقین کے پہاڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ خود معالج ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ دانت میں سخت دردتھا میں نے کسی سے دریافت کیا کہ اس کا کیا علاج ہے۔اس نے کہا کہ موٹا علاج مشہور ہے علاج دنداں اخراج دنداں۔اس کا یہ فقرہ میرے دل پر بہت گراں گزرا کیونکہ دانت بھی ایک نعمت الہی ہے اسے نکال دینا ایک نعمت سے محروم ہونا ہے۔اسی فکر میں تھا کہ غنودگی آئی اور زبان پر جاری ہوا وَ إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ اس کے ساتھ معاور دھہر گیا اور پھر نہیں ہوا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 539-540) فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنًا۔(الكهف: 106) مومن آدمی کا سب ہم وغم خدا کے واسطے ہوتا ہے دنیا کے لئے نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے اور وہ جو دنیا کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہم وشم سب دنیا کے ہی لئے ہوتے ہیں ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا نُقِيمُ لَهُمُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنا ہم قیامت کو ان کا ذرہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے۔مومن میں آثار عبودیت ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 306) يْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ۔(الفتح: 30) جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے اور جن کے حق میں فرمایا ہے سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمُ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ان میں آثار سجود اور عبودیت کے ضرور پائے جانے چاہئیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کے وعدوں میں خلا اور تخلف نہیں۔(آسمانی فیصلہ - ر- خ- جلد 4 صفحہ 322-321) مومن کلمۃ اللہ ہوتا ہے إِنَّمَا أَمْرُةٌ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ۔(يس:83) روح کی لذت اس وقت ملتی ہے جب انسان گداز ہو کر پانی کی طرح بہنا شروع ہوتا ہے اور خوف وخشیت سے بہہ نکلتا ہے۔اس مقام پر وہ کلمہ بنتا ہے اور اِنَّمَا امْرُةٌ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنُ فَيَكُونُ کا مفہوم اس میں کام کرنے لگتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 271-270)